موٹرکاروں کی فروخت میں پہلی ششماہی میں سالانہ بنیاد پر42 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) ملک میں موٹرکاروں کی فروخت میں جاری مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر42فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان آٹومینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک میں کاروں کے 65ہزار771 یونٹس کی فروخت ریکارڈکی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 46ہزار398یونٹس کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے۔دسمبرمیں 10 ہزار 659 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈکی گئی جو نومبر کے 12 ہزار396یونٹس کے مقابلے میں 14 فیصد کم اور دسمبر2024کے 7 ہزار 864 یونٹس کے مقابلے میں 36فیصد زیادہ ہے۔ پہلی ششماہی میں 1300سی سی اور اس سے زیادہ پاور کے 35 ہزار 404یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1300 سی سی اور اس سے زیادہ پاور کے 20 ہزار491یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایک ہزار سی سی کاروں کے 2521یونٹس کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 2289 یونٹس کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔ پہلی ششماہی میں ایک ہزار سی سی سے کم پاور کے 27840یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 23618 یونٹس کے مقابلے میں 18فیصد زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے کی فروخت ریکارڈ کی گئی کاروں کی فروخت ریکارڈ یونٹس کاروں کی فروخت یونٹس کے مقابلے میں پہلی ششماہی میں فیصد زیادہ ہے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔