کراچی میں آئندہ ہفتے بارش ،پنجاب میں شدیدسردی کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-08-21
کراچی/ لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ شہر قائد میں آئندہ ہفتے کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ پی ڈی ایم اے پنجاب نے لاہور سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارش اور سردی کی شدت میں اضافے سے متعلق الرٹ جاری کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں آئندہ ہفتے کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جنوب مغربی سمت سے چلنے والی ہواؤں کے سبب کراچی میں ہلکے بادلوں کے ساتھ موسم خنک ہوگیا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 87 فیصد ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کمزور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا، جس کے باعث کراچی میں 22 اور 23 جنوری کو گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر پیش گوئی کے مطابق شہر کی فضاوں پر صبح کے وقت دھند چھانے کا سلسلہ برقرار رہ سکتا ہے جبکہ آج اور کل بھی دھند کے سبب حدنگاہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آج سے کم سے کم درجہ حرارت مزید ایک ڈگری اضافے سے 14 ڈگری تک تجاوز کر سکتا ہے، آج صبح شہر کا کم سے کم پارہ 13 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 2 روز کے دوران صبح کے وقت شمال مشرقی اور سہ پہر میں سمندر کی جنوب مغربی ہوائیں چل سکتی ہیں۔ صبح و رات کے اوقات میں خنکی و سردی بدستور برقرار رہ سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے پنجاب نے لاہور سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارش اور سردی کی شدت میں اضافے سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق آج سے 19 جنوری کے دوران مغربی ہواؤں کا سسٹم پنجاب میں داخل ہوگا، 20 سے 23 جنوری کے دوران مری گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری اور بارش کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 سے 23 جنوری کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ لاہور، سرگودھا، گجرانوالہ، ساہیوال، ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویڑن میں بارش کا امکان ہے۔ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات پیشگی مکمل کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات پی ڈی ایم اے کے مطابق کے دوران کے ساتھ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔