صدر و وزیراعظم کا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی علالت پر اظہار تشویش، جلد صحت یابی کی دعا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صدرمملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی علالت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے جلد تندرستی اور عمرِ دراز کی دعا کی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کیلئے نیک خواہشات کا پیغام بھجوایا، اور کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کی صحت کیلئے پوری پاکستانی قوم دعاگو ہے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کے دلوں میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا بے حد احترام ہے، اللہ تعالیٰ شاہ سلمان کو تندرستی،عمرِ دراز اور قیادت کی مزید ہمت عطا فرمائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی علالت پر اظہار افسوس کیا اور کہا اس خبر پر گہری تشویش ہے کہ خادم الحرمین شریفین ہسپتال میں داخل ہیں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سعودی فرمانروا کی عزت و تکریم کرتے ہیں، خادم الحرمین الشریفین کی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو طبی معائنے کے بعد ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے، شاہ سلمان کے میڈیکل ٹیسٹ تسلی بخش قرار دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سعودی فرمانروا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔