شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر اسلام آباد کیوں منتقل ہوئے؟ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے مستقل طور پر کراچی چھوڑ دیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق شاہد آفریدی نے خود مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے چند ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کیا ہے۔
شاہد آفریدی نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں اہم حکومتی عہدوں کی پیشکش کی گئی لیکن ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا اور ابھی بھی فی الحال سیاست میں نہیں آرہا۔
مزید پڑھیںروہت شرما نے شاہد آفریدی کا ایک دہائی پرانا ریکارڈ توڑ دیا
نوجوان خاتون مداح کے تعریف کرنے پر شاہد آفریدی کا دلچسپ ردعمل
انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان اور پاکستان کرکٹ نے دنیا بھر میں عزت، مقام اور شناخت دی، خواہش ہے کہ پاکستان کرکٹ اور ملک کو کچھ واپس لوٹا سکوں۔
یاد رہے کہ 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی فتح میں شاہد آفریدی نے سیمی فائنل اور فائنل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
بعد ازاں 2011 کے ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم نے شاہد آفریدی کی قیادت میں سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہد آفریدی نے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔