وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں ممکنہ عسکری آپریشن کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کا آبائی علاقہ ہے اور کسی بھی آپریشن کی اجازت یا حمایت نہیں دیں گے۔ اس بیان کے وقت مقامی جرگے کی جانب سے مذاکرات کے بعد مقامی آبادی نقل مکانی کر رہی ہے۔
وادی تیراہ میں ممکنہ آپریشن کے خلاف مؤقف
’وادی تیراہ میرا گھر ہے اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی نہ اجازت دی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے آپریشن کی حمایت کریں گے‘۔ یہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان ہے، جس میں وہ کسی بھی قسم کے آپریشن کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کا تعلق وادی تیراہ سے ہے اور وہ قبائلی ضلع خیبر کے جمرود میں مقیم ہیں۔
سہیل آفریدی تیراہ میں آپریشن کے شدید مخالف کیوں؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے میں عسکری آپریشنز کے مخالف رہے ہیں، تاہم اپنے آبائی علاقے میں آپریشن کی ممکنہ تیاریوں کے بعد ان کی شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلے کا حل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 13 دہشتگرد ہلاک
تجزیہ کاروں اور صحافیوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز ایک عرصے سے جاری ہیں، اور پی ٹی آئی جو 2013 سے صوبے میں برسر اقتدار ہے، اس قدر شدید مخالفت پہلے نظر نہیں آئی۔ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔
پشاور کے نوجوان صحافی عبدالقیوم آفریدی نے بتایا کہ تیراہ میں ماضی میں کئی آپریشنز ہو چکے ہیں اور سہیل آفریدی خود انہی حالات کی وجہ سے پشاور منتقل ہوئے تھے۔
سہیل آفریدی کی مخالفت سیاسی ہے
عبدالقیوم آفریدی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی مخالفت سیاسی لگتی ہے کیونکہ وہ تیراہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی عمومی طور پر آپریشنز کی مخالف ہے اور سہیل آفریدی بھی پارٹی لائن پر ہیں۔ اگر وہ آپریشن کی حمایت کریں تو انہیں سیاسی نقصان ہو سکتا ہے، پارٹی کے اندر اور اپنے حلقے میں۔
انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی ایک طرف آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف نقل مکانی کرنے والوں کو نقد ادائیگی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اب تک تقریباً 25 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
نقل مکانی اور جرگے کے ساتھ مذاکرات
پشاور کے سینیئر صحافی کامران علی نے بتایا کہ مقامی جرگے کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد نقل مکانی شروع ہوئی۔ صوبائی حکومت نقل مکانی کرنے والوں کو ٹرانسپورٹ کی مد میں نقد ادائیگی کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فتنہ الخوارج امریکی ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے، امریکی جریدے کا انکشاف
کامران علی کے مطابق سہیل آفریدی کے پاس آپریشن کی مخالفت کا کوئی ٹھوس جواز نہیں اور نہ ہی کوئی متبادل منصوبہ موجود ہے۔ آپریشن کی حمایت کی صورت میں ان کی سیاست کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور حلقے کے لوگ ناراض ہو سکتے ہیں۔
آپریشن کا کوئی متبادل پلان موجود نہیں
کامران علی نے کہا کہ آل پارٹیز امن جرگے کے انعقاد کے باوجود عملی طور پر کوئی متبادل منصوبہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی کی حکومت مذاکرات کی بات کر رہی ہے، لیکن ماضی میں بھی مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وادی تیراہ میں قبیلے نے قرآن پاک اٹھا کر مذاکرات کیے، لیکن دہشتگردوں نے علاقہ خالی کرنے اور اسلحہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
سیاسی اور عوامی ردعمل
سہیل آفریدی سیاسی مقاصد کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ انہیں اندازہ ہے کہ آپریشن کی حمایت کی صورت میں انہیں دہشت گردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اے این پی نے ماضی میں بھی آپریشنز کی حمایت کی ہے اور آج بھی کر رہی ہے، جس کی قیمت پارٹی رہنماؤں پر حملوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
اے این پی کا مؤقف
خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اے این پی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ آل پارٹیز امن جرگے نے حکومت کو دہشتگردی کا مکمل اختیار دیا تھا، لیکن کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرستان: پاک آرمی اور خوارج کے درمیان فائرنگ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت 5 جوان شہید
انہوں نے کہا کہ آپریشن اور مذاکرات دونوں آپشن ہونے چاہییں۔ جہاں آپریشن کی ضرورت ہو وہاں کیا جائے، اور جہاں مذاکرات ممکن ہوں وہاں مذاکرات کیے جائیں۔ صرف سیاسی بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی آپریشن پی ٹی آئی دہشتگرد سہیل آفریدی وادی تیراہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی دہشتگرد سہیل ا فریدی وادی تیراہ مخالفت کر رہے ہیں آپریشن کی مخالفت آپریشن کی حمایت خیبر پختونخوا نقل مکانی کر سہیل آفریدی نے بتایا کہ وادی تیراہ تیراہ میں کر رہی ہے کے بعد ہے اور
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔