پاکستان کے ہر بچے کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہمارا ٹارگٹ ہے:شیزا فاطمہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
( ویب ڈیسک )وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزا فاطمہ خواجہ نے لاہور میں ایکسپو سینٹر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چوبیس کروڑ لوگ ہیں پندرہ کروڑ بچے اور بچیاں یوتھ کے ایج گروپ میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ لاکھ خواتین کو ہم ٹرین کیا اور ڈیجیٹل سکلز ڈویلپمنٹ سکھائی، آٹھ لاکھ خواتین ڈیجیٹل والٹ کا حصہ بن چکی ہیں، حکومت پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے ڈیجٹل انقلاب لانا چاہتی ہے۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام سہولیات فراہم کر ے گی، پاکستان کی برینڈنگ کرنے کا مقصد دنیا میں پاکستان کا ٹرسٹ بحال کرنا ہے، ہماری نیشنل اکانومی ٹیکنالوجی کو ٹرانسفر کررہی ہے، ایک مکمل نیشنل لیول فیڈریشن کی اونر شپ شامل کی گئی ہے۔
شیزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی زندگی آسان کیسے ہوسکتی ہے، پبلک سروس ریڈ ٹیپ ازم اور کرپشن کے بغیر لوگوں کی زندگی آسان کرسکتا ہے، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اس طریقے سے بنانا چاہتے ہیں کہ بہتر سے بہتر سروس ملے۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
شیزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سالوں میں ہم نے تقریبا تین لاکھ بچوں کو ٹرینگ دی، اس سال ہم ساڑھے سات لاکھ بچوں کو ٹرینگ دیں گے، ہم نے پاکستان کے برینڈ میں انوسٹ کرنا ہے اور ہم نے آؤٹ ڈور برینڈنگ پر بہت زیادہ فوکس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکول کالج یونیورسٹی لیول پر تمام جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سسٹم کے تحت تعلیم دیں گے۔ پاکستان کے ہر بچے بچی کو جدید سہولیات فراہم کرنا ٹارگٹ ہے، یہ سب اکیلے حکومت نے نہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے کرنا ہے۔
پیکجز مہنگے ہونے پر انٹرنیٹ کمپنیوں کی وضاحت سامنے آ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شیزا فاطمہ کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔