اے آر رحمان کے بیان نے بالی ووڈ میں نئی بحث کو جنم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے حالیہ بیان نے ہندی فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رحمان نے انکشاف کیا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں ان کے پاس آنے والے کام کی مقدار میں کمی آئی ہے، اور اس کا سبب وہ فیصلہ سازی میں تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلے کرنے والے لوگ وہ نہیں جو تخلیقی صلاحیت رکھتے ہوں، اور بعض اوقات اس تبدیلی کے پیچھے ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ براہِ راست ظاہر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں افواہوں کے ذریعے بتایا جاتا رہا کہ انہیں کسی پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن آخرکار میوزک کمپنی نے دوسرے پانچ کمپوزرز کو منتخب کر لیا۔
جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے اے آر رحمان ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے والے پہلے موسیقار ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت سے خود کو منوایا۔ رحمان نے اس صورتحال پر پُرسکون ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی اچھا ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔
رحمان کے تبصروں پر ردِعمل دیتے ہوئے معروف گلوکار ہری ہرن نے کہا کہ موجودہ نظام نہ مکمل طور پر سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، بلکہ یہ ایک گرے ایریا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کے فیصلے کرنے والے زیادہ تخلیقی لوگ یا کم از کم وہ لوگ ہونے چاہئیں جو موسیقی کو سمجھتے ہوں۔ ہری ہرن نے زور دیا کہ فن میں تجارتی مفادات کے بجائے حساسیت کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ صرف پیسے کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے جائیں تو مستقبل کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح موسیقار اور گلوکار لیسلی لیوس نے بھی کہا کہ طاقت کا توازن بدلا ہے، لیکن یہ تبدیلی ایک فطری عمل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میوزک انڈسٹری میں اب نئے خیالات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے پورا منظرنامہ بدل دیا ہے، جس سے فنکار اپنے لیبل کے ساتھ ابھرنے کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، لیوس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فیصلہ سازی اب زیادہ کارپوریٹ ہو گئی ہے، اور اکثر لوگ اپنی ملازمت کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں، چاہے وہ موسیقی سے محبت کرتے ہوں یا نہیں، لیکن ہر وقت صحیح فنکار کے انتخاب کا تجربہ نہیں رکھتے۔
یہ تبصرے ہندی فلم انڈسٹری میں تخلیقی آزادی، فیصلہ سازی کے معیار اور نئی ڈیجیٹل دنیا کے اثرات پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصلہ سازی نے والے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔