Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:44:57 GMT

اے آر رحمان کے بیان نے بالی ووڈ میں نئی بحث کو جنم دے دیا

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

اے آر رحمان کے بیان نے بالی ووڈ میں نئی بحث کو جنم دے دیا

آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے حالیہ بیان نے ہندی فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رحمان نے انکشاف کیا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں ان کے پاس آنے والے کام کی مقدار میں کمی آئی ہے، اور اس کا سبب وہ فیصلہ سازی میں تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلے کرنے والے لوگ وہ نہیں جو تخلیقی صلاحیت رکھتے ہوں، اور بعض اوقات اس تبدیلی کے پیچھے ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ براہِ راست ظاہر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں افواہوں کے ذریعے بتایا جاتا رہا کہ انہیں کسی پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن آخرکار میوزک کمپنی نے دوسرے پانچ کمپوزرز کو منتخب کر لیا۔
جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے اے آر رحمان ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے والے پہلے موسیقار ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت سے خود کو منوایا۔ رحمان نے اس صورتحال پر پُرسکون ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی اچھا ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔
رحمان کے تبصروں پر ردِعمل دیتے ہوئے معروف گلوکار ہری ہرن نے کہا کہ موجودہ نظام نہ مکمل طور پر سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، بلکہ یہ ایک گرے ایریا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کے فیصلے کرنے والے زیادہ تخلیقی لوگ یا کم از کم وہ لوگ ہونے چاہئیں جو موسیقی کو سمجھتے ہوں۔ ہری ہرن نے زور دیا کہ فن میں تجارتی مفادات کے بجائے حساسیت کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ صرف پیسے کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے جائیں تو مستقبل کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح موسیقار اور گلوکار لیسلی لیوس نے بھی کہا کہ طاقت کا توازن بدلا ہے، لیکن یہ تبدیلی ایک فطری عمل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میوزک انڈسٹری میں اب نئے خیالات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے پورا منظرنامہ بدل دیا ہے، جس سے فنکار اپنے لیبل کے ساتھ ابھرنے کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، لیوس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فیصلہ سازی اب زیادہ کارپوریٹ ہو گئی ہے، اور اکثر لوگ اپنی ملازمت کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں، چاہے وہ موسیقی سے محبت کرتے ہوں یا نہیں، لیکن ہر وقت صحیح فنکار کے انتخاب کا تجربہ نہیں رکھتے۔
یہ تبصرے ہندی فلم انڈسٹری میں تخلیقی آزادی، فیصلہ سازی کے معیار اور نئی ڈیجیٹل دنیا کے اثرات پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فیصلہ سازی نے والے کہا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں