فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ایک بار پھر پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی پیشکش پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ڈرامہ ’’میری زندگی ہے تو’’ کی ٹیم پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ کچھ ڈرامے خاموشی سے ایل جی بی ٹی آئیڈیاز کو فروغ دے رہے ہیں۔
ماریہ بی نے خاص طور پر قسط 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک گرلز کالج کے سین میں بائیولوجیکلی مرد کردار کو خواتین کے درمیان دکھایا گیا، جس پر انہیں شدید اعتراض ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ’’چالاکی‘‘ تھی کہ ڈرامہ سازوں نے سمجھا کہ عوام اسے نوٹس نہیں کریں گے، مگر پاکستانی ناظرین نے فوراً پہچان لیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خواتین اداکاراؤں کی کمی تھی یا ڈرامہ ساز جان بوجھ کر ایک بائیولوجیکل مرد کو خواتین کے کردار میں لے آئے؟ ماریہ بی کا موقف ہے کہ اس طرح خواتین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور اداکاراؤں کے روزگار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
ماریہ بی نے مزید کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک، خصوصاً امریکا میں ایسے موضوعات کے حوالے سے سنگین نتائج سامنے آئے ہیں، اس لیے ایسے مواد کو معمول بنا کر دکھانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ تنازع ماریہ بی اور ٹرانس جینڈر حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کے درمیان نیا نہیں۔ گزشتہ برسوں میں دونوں کے درمیان کئی مرتبہ اختلافات سامنے آ چکے ہیں، جو سوشل میڈیا اور خبروں کی سرخیوں کا حصہ رہے ہیں۔
2022 میں ڈاکٹر اعوان کو لاہور کے ایک نجی اسکول کے ایونٹ میں اسپیکر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا، مگر والدین کی مخالفت پر انہیں پروگرام سے ہٹا دیا گیا۔ ماریہ بی نے اس فیصلہ کی کھلے عام حمایت کی اور اسے ’’بچوں کے لیے درست فیصلہ‘‘ قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹر اعوان پر الزام لگایا کہ وہ خواجہ سرا کمیونٹی کا حصہ نہیں بلکہ ’’مرد ہے جو عورت میں تبدیل ہو رہا ہے‘‘، اور بچوں کے لیے یہ غلط مثال ہے۔
اس پر ڈاکٹر اعوان نے جواب دیا کہ ماریہ بی کی باتیں غلط فہمیوں پر مبنی ہیں اور انہوں نے پاکستان کے Transgender Persons Protection Act 2018 کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے قانونی حقوق کی وضاحت کی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ماریہ بی نے اس معاملے پر اپنی رائے ظاہر کی ہو۔ انہوں نے ماضی میں بھی ڈرامہ اور فلموں میں ٹرانس جینڈر اور ایل جی بی ٹی مواد پر تحفظات کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ پاکستانی معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔
ماریہ بی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کسی فرد کو ہدف بنانا نہیں بلکہ ایک مخصوص ایجنڈے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، اور وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کا بھی سوچ رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ماریہ بی کے موقف کو ملے جلے ردعمل ملا ہے؛ کئی صارفین نے ان کے بیانات کو ’’جرات مندانہ‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے مخالفت بھی کی۔

.