امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے حکومتی امور کو حماس کی جگہ ایک امن بورڈ سے چلایا جائے گا جس میں عالمی رہنماؤں کو شامل کیا جائے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پیس آف بورڈ کے ارکان کا اعلان کردیا جس سے غزہ امن معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا۔

غزہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین کے طور پر خود کو مقرر کرکے انتقالی حکمرانی اور امن منصوبے کو آگے بڑھانے کا ذمہ لیا ہے۔

1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیراعظم رہنے والے سر ٹونی بیئر غزہ بورڈ آف پیش کے بین الاقوامی رکن ہوں گے۔

امریکی صدر نے غزہ بورڈ آف پیس میں اپنے معتمد خاص اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھی بطور رکن شامل کیا ہے۔

 

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جو ٹرمپ انتظامیہ کے خارجہ پالیسی میں اہم کردار رکھتے ہیں اور غزہ کے انتظامی مراحل میں کلیدی نمائندے ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے یہودی داماد جیرڈ کشنر  کو بھی غزہ پیس آف بورڈ میں شامل کرلیا جو خصوصی ایلچی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 

علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو غزہ پیس آف بورڈ کے رکن ہوں گے۔

عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کو بھی عالمی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے لیے غزہ بورڈ آف پیس میں بطور نمائندہ شامل کیا گیا ہے۔

سرمایہ کاری کے ماہر اور اپالو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کیا گیا جو اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے امور دیکھیں گے۔

غزہ بورڈ آف پیس میں سیکیورٹی مشیر کے طور پر رابرٹ گبریل کو شامل کیا گیا ہے جو امریکی نائب قومی سلامتی مشیر ہیں اور غزہ میں سیکیورٹی اور حکمتِ عملی کے معاملات پر کام کریں گے۔

بلغاریہ کے سابق سفارت کار اور اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی نمائندے نکولے ملادی نوف غزہ بورڈ آف پیس میں بورڈ اور انٹرنیشنل کمیٹی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں گے۔

فلسطینی رہنما اور معروف ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر علی شاعتھ کو نیشنل کمیٹی فار دا ایڈمنسٹریشن آف غز کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

یہ کمیٹی غزہ میں روزمرہ انتظامات، بنیادی خدمات کی بحالی، اور اداروں کی تعمیر نو کے لیے کام کرے گی۔

اس کے علاوہ ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی قائم کیا گیا جس میں بین الاقوامی مسلم اور اسرائیلی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔

جن میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان، قطری سفارت کار علی الثواڈی، مصر کے انٹیلی جنس چیف جنرل حسن رشید اور متحدہ عرب امارات کی وزیر ریم الہاشمی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ اسرائیلی کاروباری شخصیت یاکیر گابے اور نیدرلینڈ کے سابق نائب وزیراعظم سیگرڈ کاگ بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

یہ کمیٹی غزہ میں حکمرانی اور خدمات کی فراہمی میں بورڈ آف پیس کی مدد اور تعاون کرے گا۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ ا ف پیس میں شامل کیا گیا کیا گیا ہے ہوں گے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم