کراچی کا پیسہ کراچی پر خرچ نہیں کیا جا رہا، شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
نیو کراچی ٹاؤن میں ایک ہزار گلیوں کو پختہ کرنے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی مسلسل زوال کا شکار ہے، جس کے باعث کراچی کے عوام شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ نیو کراچی ٹاؤن میں ایک ہزار گلیوں کو پختہ کرنے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں نیو کراچی ٹاؤن کی مجموعی ترقی، بلدیاتی کارکردگی اور کراچی کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ تقریب میں امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی طارق مجتبی، نائب امیر ضلع شمالی اکبر قریشی، جنرل سیکریٹری شکیل احمد، وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر، میونسپل کمشنر منور حسین ملاح، ٹاؤن افسران، یو سی چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے اسکولوں، پارکس، سڑکوں، نالوں اور دیگر ترقیاتی کام کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ نیت اور دیانت ہو تو ہر کام ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی مسلسل زوال کا شکار ہے، جس کے باعث کراچی کے عوام شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ 22 سال گزرنے کے باوجود کے-فور منصوبہ مکمل نہ ہونا سندھ حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا پیسہ کراچی پر خرچ نہیں کیا جا رہا، شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے زیرِانتظام ٹاؤنز میں محدود اختیارات کے باوجود ترقیاتی کام نمایاں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ مل کر ان کا حق لے کر رہے گی اور کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیو کراچی ٹاؤن جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔