والدین کے ہاتھوں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کی عدالتی تحقیقات آئندہ برس ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سرے، برطانیہ:والدین کے ہاتھوں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کی موت کی عدالتی تحقیقات (انکوئسٹ) اگلے سال 2027 میں شروع ہوں گی۔
سارہ شریف کو اگست 2023 میں سرے کے علاقے ووکنگ میں گھر سے مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ دسمبر 2024 میں عدالت نے سارہ کے والد عرفان شریف کو کم از کم 40 سال اور سوتیلی والدہ بینش بتول کو 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ علاوہ ازیں، سارہ کے چچا فیصل ملک کو 16 سال قید کی سزا دی گئی تھی، انہیں جرم یہ قرار دیا گیا کہ انہوں نے سارہ کی موت کا سبب بنایا یا اسے روکنے میں ناکامی کی۔
جمعہ کو سرے کورونر کورٹ میں ہونے والے پری انکوئسٹ ریویو میں بتایا گیا کہ مکمل انکوئسٹ 5 اپریل 2027 سے شروع ہوگی، جبکہ اس سال اور آئندہ سال مزید پری انکوئسٹ بھی ہوں گی، پہلی انکوئسٹ یکم مئی کو ہوگی۔
عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعتوں میں انکوئسٹ کے دائرہ کار کا تعین کیا جائے گا، جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا نسل پرستی کے الزامات یا خدشات نے بچوں کے تحفظ سے متعلق ردعمل کو متاثر کیا یا نہیں۔
انکوئسٹ کی وکیل ایلیسن ہیوٹ نے بتایا کہ تحقیقات میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ کون سی تفتیش ہونی چاہیے تھی، کون سی کی گئی، اور سارہ نے اپنے والد کے ساتھ گزارے چار سال کے دوران کن حالات کا سامنا کیا اور اس کی موت کی اصل وجوہات کیا تھیں۔
مقتولہ بچی کی سوتیلی والدہ بینش بتول نے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ انکوئسٹ میں گواہ کے طور پر بیان دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ اس سے ان کی سزا ختم نہیں ہوگی، لیکن کریمنل ٹرائل میں ان کی بات نہیں سنی گئی۔
سینئر کورونر رچرڈ ٹریورز نے کہا کہ اگر وہ تحریری بیان دینا چاہیں تو عدالت اسے روک نہیں گی اور بعد میں غور کیا جائے گا کہ پیش کیا گیا بیان انکوئسٹ کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جائے گا
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔