ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے امورِ مملکت چلانے کے لیے عبوری انتظام اور نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بورڈ کو خود امریکی صدر سپروائز کریں گے اور اس کے ارکان میں زیادہ امریکی ہی شامل ہیں۔
البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کے لیے ترک صدر طیب اردوان کو بھی باضابطہ دعوت دی ہے۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر نے بتایا کہ صدر اردوان کو امریکی ہم منصب کا خط بھی موصول ہوا ہے جس میں انھیں اس بورڈ کا بانی رکن بنانے کی پیشکش کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس خط میں غزہ جنگ بندی اور اس کے بعد امن، عبوری حکمرانی اور تعمیر نو کے عمل میں ترکیہ کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔
ترک صدر نے تاحال امریکی ہم منصب کی اس پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا البتہ اس پر اپنے رفقا سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔
اگرچہ ترک صدر کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تاہم وہ اسرائیل کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔
ترک صدر متعدد بار اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو انسانی جرائم قرار دے چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل پہلے بھی غزہ کے معاملات میں ترکی کے کسی فعال کردار کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
ترک صدر کے علاوہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صدر ٹرمپ کی اس دعوت کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس کا قیام غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی نازک جنگ بندی کے بعد کیا جا رہا ہے۔
اس بورڈ کا مقصد غزہ کی عارضی حکمرانی کی نگرانی، سیکیورٹی اور امن و امان کی بحالی، انسانی امداد کی منصفانہ تقسیم، تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی سمیت مستقبل کے سیاسی انتظام کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل