روپیہ مضبوط، مہنگائی کم، شرح سود میں مزید کمی کی راہ ہموار ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو کرے گا، جس میں شرح سود کم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روپیہ مضبوط ہونے، مہنگائی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث شرح سود میں مزید کمی کی راہ ہموار ہوگئی۔ ریسرچ ادارے کے سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو کرے گا، جس میں شرح سود کم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سروے میں شامل 80 فیصد شرکا کی رائے ہے کہ اسٹیٹ بینک نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو کم کرے گا۔ سروے کے مطابق 56 فیصد شرکا کا کہنا ہے کہ شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کی جائے گی جب کہ 15 فیصد شرکا کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد کمی متوقع ہے۔ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 فیصد شرکا نے شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ 5 فیصد شرکا کی رائے ہے کہ شرح سود 25 بیسز پوائنٹس کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح 3 فیصد شرکا کا کہنا ہے کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹس تک کم کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی فیصد شرکا کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔