وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے نہایت دو ٹوک اور پراثر انداز میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، استحکام اور داخلی امن کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی
اسلام ٹائمز۔ آج مرکزی امام باڑہ بڈگام سے ایک عظیم الشان اور منظم احتجاجی مظاہرہ برآمد کیا گیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کر کے اسلامی جمہوریہ ایران، ایرانی عوام اور ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے ایران میں بدامنی کو ہوا دینے کی منظم کوششوں پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کی مداخلت کو خطے اور عالم اسلام کے امن کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا۔ احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے نہایت دو ٹوک اور پراثر انداز میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، استحکام اور داخلی امن کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کو بے نقاب کیا۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی دباؤ، میڈیا وار اور فتنہ انگیز حربوں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوششیں ماضی میں بھی ناکام رہی ہیں اور آئندہ بھی ایرانی قوم کے عزم، شعور اور استقامت کے سامنے دم توڑ دیں گی۔ آغا سید حسن موسوی نے ایرانی عوام کو ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی قیادت پر اعتماد، وفاداری اور غیر متزلزل حمایت پر مبارکباد پیش کی اور اسے ایرانی قوم کی سیاسی بصیرت، دینی شعور اور استکباری قوتوں کے خلاف مزاحمتی فکر کا واضح اور روشن مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ، منفی پروپیگنڈا اور سازشی ہتھکنڈوں کے سامنے نہ جھکنے والی باوقار قوم ہیں۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے اس موقع پر اس امر کی بھی وضاحت کی کہ حالیہ انتشار اور کشیدگی پر قابو پا لیا گیا ہے، حالات مکمل طور پر پرسکون ہیں اور امن بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل، دانشمندی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے میڈیا اور ابلاغی اداروں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنائیں، افواہوں اور اشتعال انگیز بیانیے سے گریز کریں اور حقائق کو دیانتداری کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڈگام میں آج بلند ہونے والی آوازیں پوری امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی ترجمان ہیں اور یہ واضح پیغام دے رہی ہیں کہ اسلام دشمن قوتوں کی بالادستی، سازشوں اور مداخلت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خطے اور عالم اسلام میں عدم استحکام کا بنیادی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جارحانہ پالیسیوں اور دوہرے معیارات کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ احتجاجی مظاہرہ مکمل طور پر پُرامن رہا، جس کے اختتام پر ایران کے ساتھ یکجہتی، استکباری قوتوں کے خلاف نفرت اور مظلوم اقوام کی حمایت میں فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے، جبکہ شرکاء نے ایران کی خودمختاری اور اس کے داخلی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وادی کشمیر میں انقلاب اسلامی ایران سے اظہار یکجہتی امریکہ اور اسرائیل انہوں نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔