کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو گندم کی ترسیل میں تاخیر نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں کو مزید مہنگا کر گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران ختم نہ ہو سکا ہے، فلور ملز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عبدالجنید کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے، جسے نئی گندم کے ساتھ مکس کرکے جو آٹا تیار کیا جا رہا ہے، وہ بلحاظ قیمت عوام کی دسترس سے باہر ہے، سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو گندم کی ترسیل میں تاخیر نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں کو مزید مہنگا کر گیا ہے۔ کراچی کی تھوک و خوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے۔ عبدالجنید کے مطابق سندھ حکومت سے ملنے والی تین سال کی پرانی گندم غذائیت نہیں رکھتی ہے، سرکاری گندم کو غذائیت کے قابل بنانے کیلئے نئی گندم کی ملاوٹ کی جا رہی ہے، جس سے پیداواری لاگت اور قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کراچی کی فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل بروقت نہ ہونے سے متعلق تفصیلات سے بھی کمشنر کراچی کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عبدالجنید کے مطابق فلور ملوں کو گندم کی بروقت ترسیل کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی اہم ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری گندم وقت پر نہ ملنے سے بھی آٹے کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، پرانی سرکاری گندم کے نرخ 80 روپے فی کلوگرام اور اس میں شامل کی جانے والی نئی گندم کی قیمت 110 روپے فی کلوگرام ہے، لہٰذا تھوک مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی سستی نہیں ہو سکتی، جبکہ ریٹ کا تعین خود ساختہ ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آٹے کی قیمتوں سرکاری گندم فلور ملوں گندم کی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔