این سی سی آئی اے کی کارروائی، اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث گروہ کی مرکزی ملزمہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث گروہ کی مرکزی ملزمہ عاصمہ منہاج سمیت 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کی کارروائی، سائبر فراڈ میں ملوث عالمی گروپ کے 34 ارکان گرفتار
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مرکزی ملزمہ عاصمہ منہاج کو چنیوٹ سے حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کی نشاندہی پر اسلام آباد کے علاقے مہرآبادی سے گروہ کا ایک اور کارندہ بھی گرفتار کر لیا گیا۔ آپریشن کے دوران متعدد اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈز کے علاوہ دیگر اہم شواہد بھی برآمد ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان اے ٹی ایم بوتھس پر شہریوں کے اے ٹی ایم کارڈ تبدیل کر کے فراڈ کرنے میں ملوث تھے اور متاثرین کے بینک اکاؤنٹس سے نقد رقم بھی نکالتے رہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق فراڈ نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: این سی سی آئی اے نے مالی فراڈ میں ملوث 8 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے ٹی ایم استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں اور کسی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد این سی سی آئی اے اے ٹی ایم فراڈ پاکستان چنیوٹ ملزمہ گرفتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد این سی سی ا ئی اے اے ٹی ایم فراڈ پاکستان چنیوٹ ملزمہ گرفتار فراڈ میں ملوث اے ٹی ایم
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔