ملک میں بسوں ‘ ٹرکوں کی فروخت میں 6 ماہ کے دوران 96فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جڑانوالہ (آن لائن) ملک میں بسوں اور ٹرکوں کی فروخت میں جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں سالانہ بنیاد پر 96 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔ پاکستان آٹومینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمارکے مطابق پہلی ششماہی میں بسوں اور ٹرکوں کے3531 یونٹ کی فروخت ریکارڈکی گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1798 یونٹس کے مقابلے میں 96 فیصد زیادہ ہے۔ دسمبر میں بسوں اور ٹرکوں کے 372 یونٹس کی فروخت ریکارڈ کی گئی، جو نومبر کے 530 یونٹس کے مقابلے میں 30 فیصد کم اور دسمبر2024ء کے 193 یونٹس کے مقابلے میں 93 فیصد زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پہلی ششماہی میں ہینو کے 204 یونٹس، ماسٹر 1236 یونٹس، جے اے سی281 یونٹس اور اسوزو کے 1810 یونٹس بسوں اور ٹرکوں کی فروخت دیکھنے میں آئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ہینوکے 187، ماسٹر478، جے اے سی72 اور اسوزو کے 1061 یونٹس بسوں اور ٹرکوں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بسوں اور ٹرکوں ٹرکوں کی فروخت
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔