تعلیم، صحت اور اسکل ڈیولپمنٹ: بنگلہ دیش میں پاکستانی سماجی کارکن کا فلاحی مشن
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد سماجی کارکن انوار خان بنگلہ دیش میں کیمپس میں رہنے والے غریب اور محروم افراد کی زندگی بدلنے کے مشن پر کام کررہے ہیں، جہاں وہ تعلیم، صحت، صاف پانی اور اسکل ڈیولپمنٹ کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔
وی نیوز کے پروگرام ’صحافت اور سیاست‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انوار خان نے بتایا کہ ان کی فیملی نے 1947 میں انڈیا سے پاکستان ہجرت کی، بعد ازاں 1971 کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوئے اور پھر امریکاچلے گئے۔ 2004 میں ایک مضمون کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ ہزاروں لوگ آج بھی بنگلہ دیش کے کیمپس میں بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: 1971 سے 2025 تک: 50 سال بعد پاکستان اور بنگلہ دیش پھر ایک دوسرے کے ساتھ
انوار خان کے مطابق جولائی 2004 میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کیمپس کی ابتر صورتحال نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جہاں محدود جگہ میں درجنوں افراد رہنے پر مجبور تھے، صاف پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات ناپید تھیں اور بیشتر افراد اسٹیٹ لیس زندگی گزار رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی پس منظر میں انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی مشن کا آغاز کیا، جس کا بنیادی فوکس تعلیم رکھا گیا۔ ’تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو اس کمیونٹی کو باعزت زندگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔‘
انوار خان نے کہاکہ ان کی تنظیم یوتھ ڈیولپمنٹ اور امپاورمنٹ پر بھی کام کررہی ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو لیڈرشپ اور وژن دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم کردہ تھنک ٹینک میں اس وقت بنگلہ دیش بھر سے 650 سے زیادہ رضاکار شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صحت، صاف پانی اور سینیٹیشن کے منصوبوں پر بھی کام کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کیمپس میں بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ان کا مرکزی ہدف آج بھی تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ ہے۔
انوار خان کے مطابق کیمپس کے بچے آج بنگلہ دیش کی معروف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ متعدد طلبہ چین، جاپان، ترکیہ، ملائیشیا اور پاکستان میں بھی زیرِ تعلیم ہیں۔
’حال ہی میں فاسٹ یونیورسٹی پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر سال قریباً 10 طلبہ کو پاکستان میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ اوورسیز اسکالرشپس کے ذریعے بچوں کو مکمل اور جزوی مالی معاونت دی جا رہی ہے، جبکہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملانے میں بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے، جہاں 50 سال بعد خاندانوں کی ملاقاتیں جذباتی مناظر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
انوار خان کا کہنا تھا کہ ان کا حتمی مقصد بنگلہ دیش میں قائم کیمپس کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق کیمپس بچوں کے مستقبل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور تعلیم، امپاورمنٹ اور ڈیولپمنٹ کے ذریعے ہی اس مسئلے کا مستقل حل ممکن ہے۔
سیاسی سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور توحید حسین کا رابطہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
’دو الگ ریاستیں ہونے کے باوجود بھائی چارہ، دوستی اور باہمی تعاون وقت کی ضرورت ہے‘۔
انوار خان نے عالمی برادری اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس مشن میں شامل ہوں تاکہ آنے والے برسوں میں کیمپس کی زندگی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش بھائی چارہ سماجی کارکن محروم افراد وی نیوز یوتھ ڈیولپمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھائی چارہ سماجی کارکن محروم افراد وی نیوز بنگلہ دیش کے انوار خان انہوں نے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک