سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر، آٹا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران ختم نہ ہوسکا، سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر سے آٹا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
فلورملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے جسے نئی گندم کے ساتھ مکس کر کے جو آٹا تیار کیا جا رہا ہے وہ بلحاظ قیمت عوام کی دسترس سے باہر ہے، سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو گندم کی ترسیل میں تاخیر نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے، کراچی کی فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل بروقت نہ ہونے سے متعلق تفصیلات سے بھی کمشنر کراچی کو آگاہ کر دیا گیا۔
عبدالجنید کے مطابق فلور ملوں کو گندم کی بروقت ترسیل کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی اہم ملاقات ہوئی ہے، سرکاری گندم وقت پر نہ ملنے سے بھی آٹے کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، پرانی سرکاری گندم کے نرخ 80 روپے فی کلو اور اس میں شامل کی جانے والی نئی گندم کی قیمت 110 روپے فی کلوگرام ہے۔
لہٰذا تھوک مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی سستی نہیں ہو سکتی جبکہ ریٹ کا تعین خودساختہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب سے ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے کہا ہے کہ کمشنر کراچی آٹے کی قیمتوں کی نئی فہرست کا اجرا اگرچہ آئندہ ایک سے دوروز میں کریں گے، لیکن اوپن مارکیٹ میں گزشتہ 4ماہ کے دوران فی کلوگرام آٹا 55 روپے سے بڑھ کر 110 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔
سندھ کی گندم کے پی کے اور بلوچستان جا رہی ہے لہٰذا ڈیمانڈ بڑھنے کی صورت میں اوپن مارکیٹ میں فی کلو گندم 110 سے 125 روپے ہوجائے گی۔
رؤف ابراہیم نے کہا کہ کراچی میں فائن آٹے کی قیمت بڑھ کر 145روپے تک پہنچنے کاخدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گندم کی ترسیل سرکاری گندم ا ٹے کی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔