اقرارالحسن کی شادی کو 20 برس مکمل، تقریب کی تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی ٹی وی ہوسٹ اور کرائم رپورٹر اقرار الحسن سید اور ان کی اہلیہ قرۃ العین اقرار نے اپنی شادی کی 20 ویں سالگرہ خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ منائی، جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
اقرار الحسن کو تحقیقاتی پروگرام سرِ عام کے ذریعے شہرت ملی، جبکہ وہ رمضان ٹرانسمیشن شانِ رمضان اور دیگر طویل نشریات کی وجہ سے بھی خاصے مقبول رہے ہیں۔ اقرار الحسن کی شادی قرۃالعین اقرار سے آج سے بیس برس قبل ہوئی تھی اور ان کے ہاں ایک بیٹا پہلاج الحسن بھی ہے۔
بعد ازاں اقرار الحسن نے فرح یوسف اور عروسہ خان سے بھی شادیاں کیں، تاہم ان کے مطابق تینوں بیویوں کے درمیان خوشگوار تعلق ہے، جس کی جھلک مختلف مواقع پر سامنے آتی رہی ہے۔ اقرار الحسن کی یہی خاندانی ترتیب اکثر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بھی بنتی رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کی سیاست میں شمولیت پر بھی مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔
شادی کی بیسویں سالگرہ کی تقریب میں اقرار الحسن کی دیگر دونوں اہلیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع کی تصاویر قرۃ العین اقرار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیں اور کیپشن میں لکھا کہ اقرار الحسن کے ساتھ گزارے گئے یہ بیس برس ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت سال رہے ہیں۔
تقریب کی تصاویر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کے تبصرے بھی آنا شروع ہوگئے۔ کئی مداحوں نے تصاویر کو پسند کیا اور جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ بعض صارفین نے اقرار الحسن کی خاندانی صورتحال پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ایک تصویر میں پوری پارٹی کے پانچ ووٹرز‘‘، جبکہ ایک اور نے تبصرہ کیا، ’’ایک اداس مگر بڑی فیملی‘‘۔ اس کے برعکس کئی صارفین نے قرۃالعین اقرار کے حوصلے اور برداشت کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
View this post on Instagram
A post shared by Qurat Ul Ain Iqrar (@iqrarquratulain)
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقرار الحسن کی سوشل میڈیا کی تصاویر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔