بھارت کا جنوبی ایشیا میں اثرورسوخ کمزور، بنگلہ دیش اور میانمار پاکستان اور چین کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے روایتی اثرات بنگلہ دیش اور میانمار میں کمزور ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان اور چین دفاع، تجارت اور سیاسی تعلقات میں ان ممالک کے قریب آ چکے ہیں۔ انتخابات اور خطے کی داخلی سیاست نے بھارت کی حکمت عملی کو چیلنجز میں ڈال دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کے قریب ہونے کا عملساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) میں شائع رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھارت کے قریب سمجھی جانیوالی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا شروع کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان بنگلہ دیش کو چاول برآمد کرے گا
تجزیہ کار عمر کریم کے مطابق پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ’بلینک چیک سفارت کاری‘ کر رہا ہے، جس میں دفاعی اور تجارتی شراکت داری شامل ہے، جیسے کہ چینی ساختہ JF-17 طیاروں کی فروخت کا منصوبہ۔
ایس سی ایم پی کے مطابق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اس سیاسی تبدیلی نے بھارت کی روایتی اہمیت کو کمزور کر دیا ہے۔
میانمار میں چین کا بڑھتا ہوا اثرمیانمار میں 2021 کے فوجی قبضے کے بعد چین نے ملک پر اپنا اثر بڑھا لیا ہے۔ چین نے وہاں فوجی تربیت، ہتھیار اور اقتصادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ بھارت نے جنتا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
اینگشومن چودھری کے مطابق بھارت کو میانمار میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے مختلف نسلی گروپوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم رکھنے ہوں گے، مگر یہ کافی نہیں ہے کیونکہ چین کئی طاقتور نسلی تنظیموں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔
بھارت اور چین کے اقتصادی منصوبےبھارت، میانمار میں ایک 484 ملین ڈالر کے کورڈور کی تعمیر کر رہا ہے جو ستو پورٹ کو کولکتہ اور دیگر علاقوں سے جوڑے گا۔ دوسری جانب، چین میانمار چین اقتصادی کوریڈور کے تحت اربوں ڈالر کی ریلوے اور سڑکیں تعمیر کر رہا ہے، جو یونان صوبے سے ’کاؤکپو‘ تک جاتی ہیں۔ یہ منصوبے واضح طور پر بھارت کی علاقائی حکمت عملی کو چیلنج کر رہے ہیں۔
انتخابات اور خطے میں بھارت کی پوزیشنتجزیہ کاروں کے مطابق میانمار اور بنگلہ دیش میں انتخابات بھارت کے اثرورسوخ پر براہِ راست اثر ڈالیں گے۔ میانمار میں جنتا کی زیر قیادت نئی حکومت ممکنہ طور پر چین کے قریب ہوگی، جبکہ بھارت کی دخل اندازی محدود رہ جائے گی۔
بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد بھی پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط رہ سکتے ہیں، کیونکہ بھارت نے صرف حسینہ کے دور میں اپنا اثر قائم کیا تھا اور موجودہ حکومت پر اس کا اثر محدود ہے۔
بھارت کی حکمت عملی میں خامیاںسابق بھارتی سفارتکار کے پی فیبیان کے مطابق بھارت کی پالیسی جو پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات گہرا کرنے پر مبنی تھی، حالیہ برسوں میں ناکام رہی ہے۔ بھارت نے بنگلہ دیش میں حسینہ پر بہت زیادہ انحصار کیا اور میانمار میں جنتا کے ساتھ تعلقات محدود رہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور چین بھارت کی علاقائی حکمت عملی کو چیلنج کر رہے ہیں۔
پاکستان اور چین کی مشترکہ حکمت عملیفیبیان کے مطابق بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اتحاد ہے اور دونوں ممالک خطے میں بھارت کی اثرورسوخ کو محدود کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ صرف دفاعی یا تجارتی تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اور جغرافیائی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت چین میانمار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت چین میانمار پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات بنگلہ دیش میں میانمار میں اور چین کے حکمت عملی کے مطابق بھارت کی کے قریب
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔