Nawaiwaqt:
2026-07-24@07:06:38 GMT

پاکستان سپر لیگ میں پلیئرز آکشن متعارف کرانے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

پاکستان سپر لیگ میں پلیئرز آکشن متعارف کرانے کا فیصلہ

پاکستان سپر لیگ گورننگ کونسل کی ورکنگ کمیٹی میں آکشن ڈرافٹ اور ری ٹینشن کے معاملات پر بحث میں پلیئرز آکشن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ایس ایل گورننگ کونسل کی ورکنگ کمیٹی کے رات گئے اجلاس میں پی ایس ایل 11 کیلئے کھلاڑیوں کی ری ٹینشن کے حوالے سے بھی فیصلہ ہوگیا۔ ورکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی حتمی منظوری چیئرمین پی سی بی محسن نقوی دیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر گورننگ کونسل کا اجلاس طلب کیا جا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایل چیمپئن لاہور قلندرز نے پلیئرز آکشن کے حق میں ووٹ دیا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز اور حیدر آباد نے بھی آکشن کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پشاور زلمی اور سیالکوٹ نے ڈرا آکشن کے حق میں ووٹ دیا۔ 5 پرانی فرنچائزز نے 4 ری ٹینشن پر اتفاق کیا ان میں ایک برانڈ ایمبیسڈر ہوگا، 4 ری ٹینشن ہر کیٹیگری میں ایک ایک ہوگی ایک پلیئر کو نچلی کیٹیگری میں لا کر برانڈ ایمبیسڈر بنایا جا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق نئی فرنچائزز باقی پلیئرز پول سے اسی طرح کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیں گی، 2 نئی فرنچائزز نے زیرو ری ٹینشن پر زور دیا باقی پلیئرز پول کا آکشن ہوگا اور فرنچائزز کھلاڑی آکشن میں اٹھائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے آکشن اور ری ٹینشن کا فارمولا چیئرمین محسن نقوی کو بھجوایا جائے گا اور اگلے ایک دو روز میں اس کا با قاعدہ اعلان ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پی ایس ایل ری ٹینشن

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ