46 سال بعد لائبریری کو واپس آنے والی کتاب نے سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک عوامی لائبریری کو اس وقت غیر متوقع حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک کتاب تقریباً 46 سال کی تاخیر کے بعد واپس موصول ہوئی، جسے دیکھ کر لائبریری عملہ بھی مسکرا اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں:مشہور برطانوی مصنف جیمی اولیور کو اپنی نئی کتاب واپس کیوں لینا پڑی؟
خبر کے مطابق سان ڈیاگو کاؤنٹی لائبریری کی لا میسا برانچ کی منیجر کیسی کولڈوِن نے جنوری کے اوائل میں ایک پیکٹ کھولا تو اس میں شیلا برن فورڈ کی کتاب دی اِنکریڈیبل جرنی موجود تھی، جو مئی 1980 میں واپس کی جانی تھی۔ لائبریری ریکارڈ کے مطابق یہ کتاب تقریباً 46 برس قبل واجب الادا ہو چکی تھی۔
کیسی کولڈوِن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پیکٹ کھولتے ہی پرانی کتابوں کی مخصوص خوشبو محسوس ہوئی، جو اس کتاب میں خاصی نمایاں تھی۔ ان کے مطابق بھیجنے والے نے تحقیق کر کے کتاب درست برانچ کو واپس کی، حالانکہ لائبریری اب نئے پتے پر منتقل ہو چکی ہے۔
کتاب ایک گمنام شخص کی جانب سے واپس کی گئی، جس کے ساتھ ایک مختصر نوٹ بھی تھا جس پر لکھا تھا: ’اتنی دیر سے واپس کرنے پر معذرت‘ اور ساتھ ہاتھ سے بنایا گیا ایک مسکراتا ہوا چہرہ بھی موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں:لائبریری سے لی گئی کتاب 98 سال بعد واپس، کتنا جرمانہ بنتا ہے؟
سان ڈیاگو کاؤنٹی انتظامیہ نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ لائبریری کی کتابیں واپس کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی، کیونکہ اب کاؤنٹی لائبریری میں تاخیر پر روزانہ جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا۔
لائبریری انتظامیہ کے مطابق یہ کتاب دوبارہ شیلف میں نہیں رکھی جائے گی بلکہ اسے ایک یادگار کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا، تاکہ یہ دلچسپ واقعہ ہمیشہ یاد رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا کتاب لائبریری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا کتاب لائبریری
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔