بجٹ میں تنخواہ دار، رجسٹرڈ کاروباری طبقہ کو ریلیف ملیگا، مشیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اگلے بجٹ میں تنخواہ دار اور رجسٹرڈ کاروباری طبقے کو ریلیف ملنے کی نوید سنادی۔
سماء سے خصوصی گفتگو میں خرم شہزاد نے کہا کہ اگلے بجٹ میں تنخواہ دار اور رجسٹرڈ کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا، انرجی ٹیرف اور ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر بھی کام جاری ہے۔ پاکستانی عوام کے روزگار کمانے کی صلاحیت بڑھانا ہمارا ہدف ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اگلے اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے ہوم ورک جاری ہے، سرکاری خزانے پر بوجھ بننے والے 24 اداروں کی نجکاری ہوگی، نجکاری پلان آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک کا حصہ ہے۔ مزید معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں سے زیادہ رہے گی، اس سال جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد اور اگلے سال 5 فیصد تک جاسکتی ہے، اس سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
مشیر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہر دو تین سال کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، اس بار پائیدار ترقی کیلئے محتاط معاشی پالیسی پر عمل ہورہا ہے، رائٹ سائزنگ، توانائی شعبے سمیت سرکاری اداروں میں اصلاحات جاری ہیں، مہنگائی 25، 30 فیصد سے کم ہوکر 5 فیصد کی سطح پر آچکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔