‎مظفرآباد: (نیوزڈیسک) آزاد جموں و کشمیر میں گریڈ 21 کے ایک سینئر افسر کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن مبینہ طور پر قانون اور رولز آف بزنس کو نظر انداز کرتے ہوئے جاری کر دیا گیا ہے، مجاز محکمہ کو اعتماد میں لئے بغیر ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنا رولز آف بزنس کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
‎ذرائع کے مطابق محکمہ ان لینڈ ریونیو کے سیکرٹری اور چیئرمین سی بی آر چودھری رقیب نے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود دفاتر کھلوا کر محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو نظر انداز کرتے ہوئے سیکرٹری سی بی آر سردار ظفر محمود کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

رولز آف بزنس کی اس مبینہ خلاف ورزی نے آزاد جموں و کشمیر کے قانونی و انتظامی ڈھانچے اور انتظامی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، آزاد جموں و کشمیر رولز آف بزنس کے تحت گریڈ 19 سے بالا سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کے احکامات جاری کرنے کا اختیار محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو حاصل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار ظفر محمود کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن متعلقہ مجاز محکمہ کے بجائے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی جانب سے عجلت میں جاری کیا گیا جس پر سرکاری قواعد و ضوابط کے ماہرین نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔

‎قواعد کے مطابق وزیر اعظم اور چیف سیکرٹری کی منظوری کے بعد ہی گریڈ 19 سے بالا افسران کی ریٹائرمنٹ کی سمری دوبارہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو ارسال کرنا لازم ہوتا ہے تاہم سیکرٹری ان لینڈ ریونیو نے اس طریقہ کار کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔

‎دوسری جانب جب اس معاملے پر متعلقہ حکام سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سروسز رولز کی خلاف ورزی دراصل آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے جبکہ سیکرٹری ان لینڈ ریونیو نے آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے تحت آرٹیکل اٹھاون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری کو پس پشت ڈال کر اپنی ذاتی انا اور مقاصد کے حصول کے لئے قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس پر کارروائی کرنا قانون اور آئین کا لازمی تقاضہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار

عرفان ملک:لاہور پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لاتے ہوئے رواں سال اب تک 5600 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے.

ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اقبال ٹاؤن ڈویژن میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ 2132 ملزمان گرفتار کیے گئے، جبکہ صدر ڈویژن میں 1555 اور سٹی ڈویژن میں 1040 افراد کو حراست میں لیا گیا, شہر کے مختلف تھانوں میں 651 مقدمات کا اندراج بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کرایہ داری رجسٹریشن انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں، اس لیے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور غیر قانونی یا مشکوک افراد کو کرائے پر جگہ فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بلال صدیق کمیانہ نے مکان مالکان، کرایہ داروں اور پراپرٹی ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور تمام ضروری کوائف متعلقہ پولیس ریکارڈ میں درج کروائیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟