آزاد کشمیر، گریڈ 21 کے افسر کا خلاف قواعد ریٹائرمنٹ نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
مظفرآباد: (نیوزڈیسک) آزاد جموں و کشمیر میں گریڈ 21 کے ایک سینئر افسر کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن مبینہ طور پر قانون اور رولز آف بزنس کو نظر انداز کرتے ہوئے جاری کر دیا گیا ہے، مجاز محکمہ کو اعتماد میں لئے بغیر ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنا رولز آف بزنس کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ان لینڈ ریونیو کے سیکرٹری اور چیئرمین سی بی آر چودھری رقیب نے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود دفاتر کھلوا کر محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو نظر انداز کرتے ہوئے سیکرٹری سی بی آر سردار ظفر محمود کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
رولز آف بزنس کی اس مبینہ خلاف ورزی نے آزاد جموں و کشمیر کے قانونی و انتظامی ڈھانچے اور انتظامی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، آزاد جموں و کشمیر رولز آف بزنس کے تحت گریڈ 19 سے بالا سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کے احکامات جاری کرنے کا اختیار محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو حاصل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار ظفر محمود کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن متعلقہ مجاز محکمہ کے بجائے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی جانب سے عجلت میں جاری کیا گیا جس پر سرکاری قواعد و ضوابط کے ماہرین نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
قواعد کے مطابق وزیر اعظم اور چیف سیکرٹری کی منظوری کے بعد ہی گریڈ 19 سے بالا افسران کی ریٹائرمنٹ کی سمری دوبارہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو ارسال کرنا لازم ہوتا ہے تاہم سیکرٹری ان لینڈ ریونیو نے اس طریقہ کار کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔
دوسری جانب جب اس معاملے پر متعلقہ حکام سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق سروسز رولز کی خلاف ورزی دراصل آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے جبکہ سیکرٹری ان لینڈ ریونیو نے آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے تحت آرٹیکل اٹھاون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری کو پس پشت ڈال کر اپنی ذاتی انا اور مقاصد کے حصول کے لئے قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس پر کارروائی کرنا قانون اور آئین کا لازمی تقاضہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا