چاند پر دنیا کا پہلاہوٹل قائم کرنے کی تیاریاں شروع
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: چاند پر دنیا کا پہلاہوٹل قائم کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں ۔
میڈیا ذرائع کے مطابق امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 2032 تک چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کرے گی، جہاں قیام کے لیے سیاحوں کو قیمت تقریباً 75 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق خاص طور پر ناسا اور نجی خلائی کمپنیوں کے تعاون سے جو زمین کے گرد مدار میں اسپیس اسٹیشنز قائم کرچکی ہیں اب وہ چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے لیے سرگرداں ہیں تاکہ چاند پر سیاحت کو ممکن بنایا جاسکے، سال 1969میں اپالو الیون کے ذریعے نیل آرم اسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان قرارپائے تھے اور اب مستقبل میں وہاں ہوٹل کا قیام اسی انسانی جستجو کا تسلسل ہے۔ یہ منصوبہ گیلیکٹک ریسورسز یوٹیلائزیشن (گرُو) اسپیس نامی کمپنی نے پیش کیا ہے جسے ایلون مسک کی اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی اینویڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
کمپنی ترجمان کے مطابق خواہش مند خلائی سیاحوں سے ابتدائی بکنگ کے لیے ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ بطور ایڈوانس وصول کیے جا رہے ہیں تاہم پہلے مرحلے میں ہوٹل میں صرف چار مہمانوں کو ٹھہرایا جائے گا، ہوٹل 2032 میں چاند کی سطح پر اتارا جائے گا، جہاں مہمان پانچ راتیں گزار سکیں گے۔ ہوٹل میں آکسیجن پیدا کرنے کا نظام، ہوا اور پانی کی ری سائیکلنگ، درجۂ حرارت پر قابو، ہنگامی انخلا کا سسٹم اور سورج کی شعاعوں سے بچاؤ کے لیے ریڈی ایشن شیلٹر بھی موجود ہوگا۔ گرُو اسپیس کے بانی 22 سالہ سکائلر چان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں انسانیت کو ایک بین السیّاروی مخلوق بنتے دیکھیں گے، اگر ہم کامیاب ہوئے تو مستقبل میں اربوں انسان چاند اور مریخ پر زندگی کا تجربہ کرسکیں گے۔
کمپنی کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسان خلا میں طویل عرصے تک محفوظ طریقے سے کیسے رہ سکے گا، اس کیلئے منصوبے کے تحت زمین سے کم سے کم سامان لے جا کر چاند پر زیادہ سے زیادہ رہائشی جگہ بنائی جائے گی، سال 2029 میں ہونے والے پہلے آزمائشی مشن میں ہوٹل کا چھوٹا ماڈل چاند پر بھیجا جائے گا، دوسرے بڑے مشن میں سال 2031 بڑا جس میں چاند کے ایک گہرے گڑھے کے قریب انفلیٹیبل ڈھانچہ نصب کیا جائے گا۔ جس کے بعد تیسرے مرحلے میں سال 2032 آگیا، کمپنی نے تمام خواہشمندوں کومتنبہ کیا ہے کہ حتمی ٹکٹ کی قیمت ایک کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق چاند پر جائے گا کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز