جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے 4 رکنی وفد نے امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمان کی قیادت میں اتوار کی شام چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات کی، جس میں آئندہ انتخابات کے وقت اور انتخابی ماحول پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات اور ریفرنڈم میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا مطالبہ

یہ ملاقات اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں شام 6:30 بجے ہوئی۔ وفد میں نائب امیر ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طاہر، سیکریٹری جنرل اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پروار اور اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل مولانا رفیق الاسلام خان بھی شامل تھے۔

ملاقات کے بعد ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طاہر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی نامزدگیوں کی جانچ پڑتال کے عمل پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی قانونی دائرہ کار کے تحت بعض امیدواروں کو اہل اور بعض کو خاص طور پر قرض نادہندگی اور دوہری شہریت کے معاملات میں نااہل قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو بچانے کے لیے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، حالانکہ ان پر بھی اسی نوعیت کے الزامات ہیں۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کو عوامی نمائندگی کے حکم نامے کے مطابق کسی بھی سیاسی دباؤ کے بغیر فیصلے کرنے چاہئیں، بصورت دیگر شفاف اور آزاد انتخابات کی ساکھ متاثر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘منصوبہ بند انتخابات قبول نہیں کیے جائیں گے،’ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا انتباہ

ڈاکٹر طاہر نے کہا کہ اس طرز عمل سے ایک مخصوص جماعت کے حق میں جانبداری ظاہر ہوتی ہے، جس سے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت ایک مخصوص سیاسی جماعت کے سربراہ کو اضافی سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کر رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کو بطور بڑی سیاسی قوت مساوی سلوک ملنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مساوی مواقع کا اصول پامال ہوا تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے بعض اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور ریٹرننگ افسران پر بھی جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ایسے افسران کی فہرست تیار کر لی ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر طاہر کے مطابق اگر الیکشن کمیشن نے بروقت کارروائی نہ کی تو چیف ایڈوائزر سے مداخلت کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر یونس کے گرد موجود بعض مشیر انہیں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے گمراہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

اس موقع پر جماعت اسلامی نے تمام پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لیے فنڈز مختص کرنے کے حکومتی فیصلے کو سراہا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ووٹرز کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی سیکیورٹی فورس، بشمول فوج، کو پولنگ بوتھ کے اندر تعینات نہ کیا جائے۔

ڈاکٹر طاہر کے مطابق چیف ایڈوائزر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ سیکیورٹی اہلکار صرف پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہوں گے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر یونس نے ملاقات کے دوران کہا کہ بہت سی باتیں ان کے علم میں نہیں لائی جاتیں، جس پر جماعت اسلامی نے انہیں اہم قومی معاملات سے باخبر رہنے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے کا مشورہ دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انتخابات بنگلہ دیش جماعت اسلامی چیف ایڈوائزر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش جماعت اسلامی چیف ایڈوائزر

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی