غزہ امن بورڈ، امریکی صدر کی شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے انتظامی اور تعمیر نو کے معاملات کے لیے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کو شمولیت کی دعوت دے دی۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت ملی ہے، پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ رابطے میں رہے گا، مسئلہ فلسطین کا مستقل حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کاوشوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال، رکنیت کی شرط ایک ارب ڈالرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز اپنی سربراہی میں غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان کیا تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور دیگر افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
غزہ میں 'بورڈ آف پیس' کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، یہ بورڈ سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاملے پر سول اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور واضح اتفاقِ رائے موجود ہے۔ یہ طے ہے کہ پاکستان کسی قسم کی جنگی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتا۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے رابطہ نہیں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کا معاملہ امریکی وزیرخارجہ مارکو رُوبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔