فائر بریگیڈ وقت پر نہ پہنچنے کی بات درست نہیں، میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب—فائل فوٹو
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب دوبارہ آگ سے متاثرہ گل پلازہ پہنچ گئے انہوں نے کہا ہے کہ فائر بریگیڈ وقت پر نہ پہنچنے کی بات درست نہیں ہے۔
میئرکراچی مرتضیٰ وہاب دوبارہ گل پلازہ پہنچ گئے، عوام کی جانب سے جاری احتجاج پر انہوں نے کہا کہ کراچی کے کہا عوام جذباتی ہیں میں ان کا دکھ سمجھتا ہوں، تنقید کریں۔
میئر کراچی نے کہا ہے کہ 65 کے قریب لوگ لاپتہ ہیں، رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہوا۔
گل پلازا کے دورے کے بعد میئر کراچی قریب موجود ڈی سی آفس چلے گئے، ڈی سی آفس کے باہر بھی شہریوں نے احتجاج کیا۔
انہوں نے بتایا عمارت کے پیچھے سے بھی آپریشن کیا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا اس حوالے سے ابھی وقت نہیں دے سکتا۔
مرتضیٰ وہاب نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کی رات 10بجکر 27 منٹ پر کال آئی اور 15منٹ میں فائر بریگیڈ پہنچ گئی، فائر بریگیڈ وقت پر نہ پہنچنے کی بات درست نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ میئر کراچی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔