( اسامہ ملک)کراچی کے گل پلازہ میں لگی آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیاگیا، جاں بحق افرادکی تعداد11ہوگئی، 60افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ،عمارت کا 60 فیصد حصہ گر گیا ۔

  تفصیلات کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو 34 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا، تاحال آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہو گئی، 20 سے زائد افراد زخمی ہیں  جبکہ 60 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، ریسکیو ٹیمیں تاحال مکمل طور پر عمارت میں داخل نہیں ہو سکی.

ڈیرہ اسماعیل خان; پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 01 خوارج واصلِ جہنم، 02 زخمی

 عمارت کا 60 فیصد حصہ گر گیا

 عمارت کا 60 فیصد حصہ گر گیا باقی 40 فیصد بھی مخدوش  ہو چکا جس کے  کسی بھی وقت مکمل طور پر منہدم ہونے کا خدشہ ہے ،پاک بحریہ اور ریسکیو 1122 کے 22 فائر ٹینڈرزاور 15 واٹر باؤزرز نے آگ بجھانے میں حصہ لیا۔ مکمل آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے کے لیے آپریشن شروع ہوگا۔

  بچے سمیت مزید4لاشیں اور اعضا نکالے گئے

 چند گھنٹے کےدوران بچے سمیت مزید4لاشیں اور اعضا نکالے گئے،ریسکیوحکام کےمطابق 20 سے25فرادکوریسکیوکیاجاچکاہے، دیگرلاپتہ افرادکی تلاش جاری ہے ،گل پلازہ میں لاپتہ افرادکےلواحقین کرب میں مبتلا  ہیں اور کسی معجزے کے منتظرہیں،ریسکیوحکام کےمطابق 20 سے25فرادکوریسکیوکیاجاچکاہے، دیگرلاپتہ افرادکی تلاش جاری ہے۔

بسنت 2026۔۔لاہوریوں کا امتحان

 شہرکی فضا سوگوار

  ں آتشزدگی کےواقعےپر شہرکی فضا سوگوار ہے ،کراچی چیمبرآف کامرس کی وزیراعظم اوروزیراعلیٰ سندھ سےتاجروں کےنقصانات کےازالےکی اپیل کی ہے ،سانحہ گل پلاز ہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے آج الیکٹرانک مارکیٹیں بند رہیں گی۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: گل پلازہ میں

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ