عوام کے دکھ کو سیاسی ایجنڈے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سندھ حکومت
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) ترجمان سندھ حکومت سمعتا افضال سید نے حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے دکھ کو سیاسی ایجنڈے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایک بیان میں سمعتا افضل کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ خود صورتحال کی نگرانی کر رہے تھے، تاخیر کے الزامات بے بنیاد ہیں، شہر کے تحفظ اور بہتری کیلئے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو مافیا کہنا سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے، جماعت اسلامی اپنے بلدیاتی دور کی کارکردگی پر جواب دے۔
یاد رہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے گل پلازا کے دورے پر کہا تھا کہ قبضہ میئر 23 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے، سندھ حکومت پریزنٹیشن دے کر لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتی، فائر فائٹرز کے پاس سہولتیں موجود نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔