پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
تو پھر یوں ہوا کہ عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی جنہوں نے اپنے والد کے انتقال کے بعد 1989 میں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا، پی ٹی آئی کی 5 ماہ کی جدوجہد کے بعد لیڈر آف اپوزیشن بن گئے۔
بات صرف یہ نہیں کہ وہ تحریک انصاف کی جانب سے تجویز کردہ ہیں اور ان کی ہی حمایت سے لیڈر آف اپوزیشن بنے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بلوچستان سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی کا لیڈر آف اپوزیشن بننا بہت اہم واقعہ ہے۔
یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست اب بلوچستان میں دم توڑ رہی تھی۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کے سوا ان کی پارٹی کا کوئی رکن نہ صوبائی اسمبلی میں جیت سکا نہ قومی اسمبلی کی کوئی نشست ان کا مقدر بن سکی۔ ان کی پارٹی کے نظریاتی حصے بخرے بھی ہو رہے ہیں۔ عثمان کاکڑ کے صاحبزادے خوشحال کاکڑ نے ایک نئی جماعت بنا لی ہے، جو کہ بلوچستان کے نارتھ میں روز بہ روز محمود خان اچکزئی کی سیاست کو شکست دے رہی ہے۔
محمود خان اچکزئی میدانِ سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم قلعہ عبداللہ میں اور مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی۔ 1989 میں صرف 25 سال کی عمر میں پہلی دفعہ اپنی پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس وقت سے آج تک ان کی پارٹی میں کوئی اور چیئرمین نہیں بن سکا۔ 1974 میں پہلی دفعہ ایک ضمنی انتخاب میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993 میں پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن بنے اور اب تک 4 دفعہ یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
سیاسی اعتبار سے یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے حامی رہے۔ فوج کے سیاسی کردار کے مخالف رہے۔ افغانستان سے ان کی پرانی الفت رہی ہے۔ یہ اب بھی اس کو ’وطن‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ مکالمے کی سیاست ان کی خواہش رہی۔ پاکستان میں 90 کی دہائی کے بعد جتنے بھی سیاسی اتحاد بنے، ان میں یہ پیش پیش رہے۔ یہ عمران خان کی حکومت کے خلاف چلنے والی پی ڈی ایم تحریک کا بھی نہ صرف حصہ رہے ہیں بلکہ اُس زمانے میں بلوچستان میں پی ڈی ایم کے ایک جلسے کا انعقاد بھی کروا چکے ہیں جس میں مریم نواز کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں یہ پی ٹی آئی سے نجات کے لیے تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں مگن تھے۔ دوسری جانب عمران خان جلسوں میں سر پر دوپٹہ پہن کر ان کی نقلیں اتارتے، رکیک الفاظ سے پکارتے، طنز، تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بناتے۔
قومی اسمبلی میں ان کا بطور ’لیڈر آف اپوزیشن‘ انتخاب کئی مراحل سے گزرا۔ اس میں 5 ماہ لگ گئے۔ عمر ایوب 9 مئی کے کیسز میں نکالے گئے۔ انہوں نے عدالتوں میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی۔ ایاز صادق اسی اپیل کا بہانہ بنا کر اس تعیناتی میں تعطل سے کام لیتے رہے۔ وہ کہتے رہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا نام پی ٹی آئی کی جانب سے آنا اچنھبے کی بات تھی۔ زیادہ تر لوگ دو طرح کے اعتراضات کر رہے ہیں۔
ایک طبقہ معترض تھا کہ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور علی محمد کے ہوتے ہوئے کیا پی ٹی آئی میں ایک شخص بھی اس قابل نہیں جو اس عہدے کا مستحق ہو۔
دوسرا، محمود خان اچکزئی کے حوالے سے عمران خان کی تضحیک آمیز ویڈیوز اور محمود خان اچکزئی کے عمران خان کے خلاف بیانات سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے اس فیصلے کا مذاق اڑاتے رہے۔
قصہ مختصر پی ٹی آئی نے عمر ایوب کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست واپس لی اور محمود خان اچکزئی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہو گیا۔
محمود خان اچکزئی کو نواز شریف سے خاص نسبت ہے۔ وہ انہیں پنجاب کا نہیں پاکستان کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف حکومت پر اکثر تنقید کی ہے مگر آج تک ایک لفظ بھی نواز شریف کے خلاف نہیں کہا۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تعیناتی میں بھی بڑے میاں صاحب کا بہت ہاتھ ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر جاتی امرا سے ان کی تعیناتی کے حوالے سے اذن نہ ملتا تو آج بھی ایاز صادق ان کی تعیناتی کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح لیت و لعل سے کام لے رہے ہوتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی بطور پی ٹی آئی کے لیڈر آف اپوزیشن کیسے اپنے کردار کو نبھا پائیں گے۔ دونوں کے طرزِ سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سوچ، نظریے، حکمتِ عملی اور سیاست ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ اختلاف دونوں کرتے ہیں مگر طریقہ اور قرینہ بہت مختلف ہے۔ یہ آگ اور پانی کا کھیل نہیں بلکہ آگ اور پیٹرول کا تماشا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے جلتا کون اور بچتا کون ہے؟ شکست کس کو ہوتی ہے اور موقع سے فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ سیاست کس کی بچتی ہے اور نظریہ کس کا قائم رہتا ہے؟
محمود خان اچکزئی نظریاتی اور عمران خان تجرباتی سیاست دان ہیں۔ ایک اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار کے خلاف ہے اور دوسرے کا وجود ہی اسی خمیر سے ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے، دوسرا سیاسی جماعتوں سے ہاتھ تک ملانے کا روادار نہیں۔ ایک نے ساری عمر گالی گلوچ سے اجتناب کیا، سیاست میں شائستگی کو شیوہ بنایا۔ دوسرے کا طرہ امتیاز ہی گالی دینا، تضحیک کرنا اور تمسخر اڑانا ہے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا سوچ ہی نہیں سکتا اور دوسرا اب بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ’ایک خوش خبر کال‘ کا منتظر ہے۔
پی ٹی آئی کا محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کا فیصلہ ایسا ہی ہے جیسے جاوید ہاشمی کو پارٹی کا صدر بنانا۔ پی ٹی آئی کو اب تک اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ نظریاتی لوگ ایک اسٹیج پر مفادات کے بجائے نظریے کو اہمیت دیتے ہیں۔ جاوید ہاشمی کی 2014 کے دھرنے میں تقریر نے نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی سازش کو بے نقاب کیا۔ یہی توقع محمود خان اچکزئی سے بھی ہے۔
ایک دن انہوں نے اسی منصب پر بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کی نام نہاد مزاحمتی سیاست کا سارا کچا چٹھا کھول دینا ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کو احساس ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو پورے ملک کی پارٹی کہتے ہیں مگر اب ان کے پاس لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ بھی نہیں رہا۔
عمران خان اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے میں ملکہ رکھتے ہیں، لیکن اس دفعہ پاؤں پر کلہاڑی نہیں ماری بلکہ پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔
اردو کالم عمار مسعود محمود خان اچکزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اردو کالم محمود خان اچکزئی محمود خان اچکزئی لیڈر آف اپوزیشن قومی اسمبلی پی ٹی آئی کے کی پارٹی انہوں نے کے خلاف ہیں کہ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔