سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر 3 افراد کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر تین افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔
سعودی میڈیا کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں حسین بن سالم بن محمد العمری، سعود بن ہلیل بن سعود العنزی اور بسام محسن مران السبیعی شامل ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد مقدمہ خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے شریعت اور سعودی قوانین کی روشنی میں سماعت کے بعد تینوں کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق ملزمان سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے، اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش اور دہشت گرد عناصر کو پناہ دینے جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معاشرے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سزائے موت
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک