پاک فضائیہ کا ایف-16دستہ خصوصی مشق میں شرکت کیلئے سعودی عرب پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
پاکستان فضائیہ کے جدید ایف-16 بلاک-52 لڑاکا طیارے اور تربیت یافتہ عملہ سعودی عرب میں جاری عالمی فضائی مشق اسپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کے لیے پہنچ گیا ہے۔
اس مشق میں سعودی عرب، پاکستان، امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت دس ممالک کی فضائی افواج شریک ہیں۔ پاکستانی طیاروں نے پاکستان سے سعودی عرب تک بغیر رکے پرواز کرکے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس مشق میں جدید فضائی جنگی حکمت عملیوں کی تربیت دی جارہی ہے، نائٹ کمپوزٹ ایئر آپریشنز مشق کا اہم حصہ ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں مربوط انٹیلیجنس اور الیکٹرانک وارفیئر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، کثیر ملکی مشق کا مقصد فضائی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو بڑھانا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایف-16 بلاک 52 طیارے جدید ایویونکس اور بی وی آر صلاحیتوں سے لیس ہیں، پاکستانی پائلٹس جدید غیرملکی جنگی طیاروں کے خلاف عملی مشق کریں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں بڑے پیمانے پر فورس ایمپلائمنٹ کی تربیت بھی شامل ہے، یہ مشق جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی ماحول میں ہو رہی ہے، پاکستان فضائیہ کی شرکت عالمی فوجی تعاون کے عزم کی عکاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔