سعودی عرب میں ساحلی سیاحت کے فروغ کے لیے نئے قوانین نافذ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سعودی ریڈ سی اتھارٹی (ایس آر ایس اے) نے ساحلوں پر کام کرنے والے اداروں کے لیے نئے ضوابط اور تقاضے متعارف کرا دیے جن کے تحت ساحلوں کو اب صرف عوامی مقامات کے بجائے باقاعدہ اور منظم آپریشنل ماحول کے طور پر دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی جانب اہم قدم، تشہیر کے لیے خصوصی طیارہ متعارف
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان ضوابط کا مقصد ساحلی سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے ایک متحدہ قومی فریم ورک قائم کرنا ہے جس کے ذریعے خطرات کا مؤثر انتظام، خدمات کے معیار میں بہتری اور انسانی جان کے تحفظ کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ فریم ورک بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ 1,800 کلومیٹر سے زائد علاقے پر محیط ہے اور ساحلی سرگرمیوں میں ہم آہنگی اور اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت صرف لائسنس یافتہ اداروں کو سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی، جبکہ لائسنس کی مدت دو سال ہو گی، جس کی تجدید میعاد ختم ہونے سے 30 دن قبل لازمی ہو گی۔
ان ضوابط میں حفاظتی اقدامات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جن کے تحت لائسنس کے اجرا کو مختلف حفاظتی شرائط سے منسلک کیا گیا ہے جن میں ماحولیاتی اجازت نامے، انشورنس دستاویزات، سمندری منصوبہ بندی اور حفاظتی منصوبے شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کی قدرتی حسن سے مالامال وادی رازَن سیاحت کا نیا مرکز بن گئی
نئے فریم ورک کے مطابق ساحلوں پر تربیت یافتہ لائف گارڈز، مکمل حفاظتی سامان اور واقعات کی رپورٹنگ کا مربوط نظام لازمی ہو گا تاکہ خدمات میں مسلسل بہتری لائی جا سکے۔
معاشی لحاظ سے، یہ متحدہ ضوابط سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کریں گے اور آپریشنل خطرات میں کمی لا کر سیاحتی منصوبوں کو زیادہ پائیدار بنائیں گے۔
یہ اقدام سعودی ریڈ سی اتھارٹی کے اس ہدف سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت 2030 تک 85 ارب سعودی ریال معیشت میں شامل کرنے، ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور لاکھوں سیاحوں کو متوجہ کرنے کا منصوبہ ہے۔
منتقلی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے یہ ضوابط اعلان کے ایک ماہ بعد نافذ ہوں گے جبکہ موجودہ آپریٹرز کو اصلاح کے لیے ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب: سیاحت و مہمان نوازی کے شعبے میں اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز
یہ نئے قوانین ساحلوں کو باقاعدہ سیاحتی اداروں میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم حکومتی قدم قرار دیے جا رہے ہیں جن میں انسانی جان کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی ساحلوں کے لیے نئے قوانین سعودی عرب سعودی عرب میں ساحلی سیاحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی ساحلوں کے لیے نئے قوانین سعودی عرب میں ساحلی سیاحت کے لیے کے تحت
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔