ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک روزہ حفاظتی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹ کیس کے معاملے پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک روز کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے کل تک دونوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اعظم خان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں ہادی علی چٹھہ پیش ہوئے۔
عدالت میں وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ دو مرتبہ ضمانت مسترد ہوئی ہے اور اب ان کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے، وکیل سے کوئی زیادتی ہو بھی جائے تو جج کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں جج صاحب ہر 15 منٹ بعد کیس چلا رہے ہیں، ایمان مزاری ایک خاتون ہیں ان کی طبیعت ناساز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔