وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے تجربات، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے برسوں کے بجائے مہینوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو چکی ہے اور حکومت سی پیک 2.0 کو عملی حقیقت اور کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روز پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال، اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری حکام موجود تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

وزیراعظم نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبی نظم و نسق، جدید کاشتکاری کے طریقوں، ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سمت میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔

پاکستان چین کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرکے برسوں میں نہیں مہینوں میں کمال کرسکتا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے، سی پیک 2.

0 کو حقیقت اور کامیابی میں ڈھالیں گے، وزیراعظم شہباز شریف@KhawajaMAsif @KulAalam pic.twitter.com/xWlmKtMbP0

— Media Talk (@mediatalk922) January 19, 2026

انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے اور 2024 اور 2025 کے دوران بی ٹو بی اور جی ٹو جی سطح پر متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جنہیں اب عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین کی زرعی جامعات اور تحقیقاتی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا، جو وطن واپس آ کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے اور زرعی معیشت کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم نے چین کی زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ترقی کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ، دیرپا اور فولاد سے مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو اس گہرے تعلق کی عکاسی ہے۔

انہوں نے افراط زر میں کمی، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب پائیدار ترقی کے راستے پر ہے۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زراعت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تو معیشت میں تیز رفتار تبدیلی ممکن ہے۔

مزید پڑھیں:  پاک چین آہنی دوستی نئی بلندیوں کی جانب، سی پیک کے نئے مرحلے کا آغاز

قبل ازیں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مہنگائی 4 فیصد پر برقرار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

چینی سفیر نے کہا کہ چین زرعی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور ترقیاتی تعاون کو اجاگر کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس چین پاکستان چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، سی پیک وزیراعظم محمد شہباز شریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چین پاکستان سی پیک وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کی معیشت کہا کہ پاکستان پاکستان چین شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے تعاون کو کے سفیر کے لیے چین کے سی پیک

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری