رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس آج اسلام آبادو دیگر شہروں میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) شعبان المعظم کے چاند کی رویت کے سلسلے میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی سمیت تمام زونل کمیٹیوں کے اجلاس آج طلب کر لیے گئے ہیں۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت اجلاس اسلام آباد میں ہوگا، جس میں مرکزی کمیٹی کے ساتھ زونل کمیٹی کے ممبران بھی شریک ہوں گے۔
اجلاس میں محکمہ موسمیات، ماہرین فلکیات، ماہرین مذہبی امور اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی شریک ہوں گے۔پشاور، لاہور، کراچی، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس بھی آج منعقد ہوں گے۔تمام رویت ہلال کمیٹیاں شام مغرب سے قبل اپنے مقررہ مقامات پر بیٹھ کر شعبان المعظم کے چاند کی رویت کا جائزہ لیں گی۔شعبان المعظم کے چاند کا حتمی اعلان مرکزی چیئرمین مولانا سید عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔