کان میں پانی پھنس جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نہاتے ہوئے یا تیراکی کے دوران کان میں پانی چلے جانا ایک عام مسئلہ ہے، تاہم یہی معمولی سی صورتحال اکثر افراد کے لیے بےچینی، بھاری پن اور بعض اوقات تکلیف کا باعث بن جاتی ہے، خاص طور پر جب پانی فوراً باہر نہ نکلے تو لوگ گھبراہٹ میں ایسے طریقے اختیار کر لیتے ہیں جو مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق کان میں پانی چلے جانے کی صورت میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ لوگ انگلی، ماچس کی تیلی، پِن، ٹشو پیپر یا کاٹن بڈز کے ذریعے پانی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس قسم کی حرکات کان کے حساس پردے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں انفیکشن، سوزش یا سماعت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کان میں پانی چلا جائے تو گھبرانے کے بجائے چند محفوظ اور آزمودہ طریقے اپنائے جائیں، جن کے ذریعے پانی بغیر کسی نقصان کے بآسانی خارج ہو سکتا ہے۔
پہلا اور سب سے سادہ طریقہ یہ ہے کہ جس کان میں پانی گیا ہو، سر کو اسی سمت جھکا لیا جائے اور کان کے نچلے حصے کو ہلکے ہاتھ سے نیچے کی جانب کھینچا جائے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ہلکی سی جمپ لگائی جائے، جس سے کششِ ثقل کے باعث کان میں موجود پانی قدرتی طور پر باہر آ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دوسرا مؤثر طریقہ سکشن پیدا کرنے کا ہے۔ اس کے لیے ہتھیلی کو کان کے اوپر اچھی طرح رکھ کر چند بار زور سے دبا کر چھوڑا جائے۔ اس عمل سے کان کے اندر دباؤ پیدا ہوتا ہے، جو پھنسا ہوا پانی باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے اور اکثر افراد کو فوری آرام محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا طریقہ خاص احتیاط کے ساتھ صرف بڑوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں ہیئر ڈرائر کو کم حرارت پر رکھ کر کان سے تقریباً دس انچ کے فاصلے پر پانچ سیکنڈ کے لیے گرم ہوا دی جاتی ہے، پھر چند لمحے کا وقفہ دے کر یہی عمل دو سے تین بار دہرایا جاتا ہے۔ اس سے کان کے اندر موجود نمی خشک ہو جاتی ہے، تاہم بچوں کے معاملے میں اس طریقے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر کان سے پانی نہ نکلے، یا درد، جلن اور تکلیف میں اضافہ ہونے لگے تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح اگر کان میں پانی جانے کے بعد بھنبھناہٹ، سنسناہٹ، درد یا سماعت میں کمی محسوس ہو تو یہ انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے، ایسی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں کے بجائے بروقت طبی معائنہ ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔ بروقت احتیاط اور درست طریقہ اپنانے سے کان کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کان میں پانی جاتا ہے کان کے کے لیے
پڑھیں:
ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔