بنگلہ دیش: سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر خلیل الرحمان کا روہنگیا کیمپوں کا دورہ، فٹبال میچ بھی دیکھا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور روہنگیا امور و ترجیحی امور میں ہائی ریپریزنٹیٹو ڈاکٹر خلیل الرحمان نے اتوار کے روز کوکس بازار کے روہنگیا کیمپوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جاری روہنگیا فٹبال ٹورنامنٹ کا ایک میچ بھی دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے وفد کی چیف ایڈوائزر سے ملاقات، آئندہ انتخابات پر گفتگو
یہ ٹورنامنٹ کیمپوں میں نوجوانوں کی شرکت، معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کمیونٹی کے مثبت تعامل کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر خلیل الرحمان نے دورے کے دوران شائقین کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد، نظم و ضبط اور پرامن بقائے باہمی کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے روہنگیا نوجوانوں کو کھیلوں اور دیگر تعمیری سرگرمیوں میں وقت اور توانائی صرف کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ یہی ایک ہموار اور ہم آہنگ کمیونٹی کی تعمیر میں مددگار ہوگا۔
مزید پڑھیے: غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات
انہوں نے روہنگیا کی میانمار واپسی کے سلسلے میں بنگلہ دیش کے مؤقف کو بھی دہرایا اور امید ظاہر کی کہ مسلسل مذاکرات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے یہ عمل پرامن، محفوظ اور باعزت طریقے سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روہنگیا کیس، میانمار کٹہرے میں
کیمپ کے رہائشیوں اور کمیونٹی کے نمائندوں نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کی موجودگی اور ان کے پیغامات کا خیرمقدم کیا اور اسے حکومت بنگلہ دیش کی مجبورانہ طور پر بے گھر کیے گئے میانماری شہریوں کی فلاح، استحکام اور مستقبل کی بہتری کے لیے مسلسل کوششوں کی عکاسی قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش روہنگیا سیکیورٹی ایڈوائزر بنگلہ دیش خلیل الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش روہنگیا سیکیورٹی ایڈوائزر بنگلہ دیش خلیل الرحمان ڈاکٹر خلیل الرحمان روہنگیا کی بنگلہ دیش
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔