Nawaiwaqt:
2026-07-24@07:11:08 GMT

غیرت کے نام پر قتل پر سزائے موت دی جائے گی، سینیٹ میں بل پیش

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

غیرت کے نام پر قتل پر سزائے موت دی جائے گی، سینیٹ میں بل پیش

غیر ت کے نام پر قتل کا مقدمہ ورثاء کی جانب سے قابل معافی نہیں ہوگا، ریاست کی طرف سے مقدمہ چلایا جائے گا، سزائے موت دی جائے گی۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش کردیا، تعزیرات پاکستان، فوجداری قوانین اور قتل عمد سے متعلق قانون میں ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

مجوزہ بل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے دفاع میں اکسانے، کنٹرول کھونے یا اخلاقی غصے کو قبول نہیں کیا جائے گا، جو قتل کی ہدایت کرے، مدد کرے، ابھارے یا منظوری دے اسے بھی عمر قید کی سزا ہوگی۔

سینیٹ میں پیش کیے گئے مجوزہ بل میں جرگوں کے ذریعے قتل کے لیے اکسانے کو بھی جرم قرار دیا گیا، جبکہ جان بوجھ کر جرم کو نہ روکنے، رپورٹ نہ کرنے، یا تفتیش میں نااہلی پر سرکاری ملازم کے لیے 5 سال تک قید اور جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

بل بحث کےلیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

 مسلم فیملی قانون میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کردیا گیا، بل سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا، جبکہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے فیڈرل کمیشن برائے پاپولیشن اینڈ ری پروڈکٹو کا بل پیش کیا، سینیٹر زرقا سہروردی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا، جو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

ڈاکٹر افنان اللّٰہ کا ورچوئل اثاثہ جات کا بل پیش کیا گیا، جو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک اتھارٹی بن چکی ہے۔

سینیٹر سرمد علی کا اسلام آباد میٹرو بس سروس بل پیش کیا گیا، سینیٹ نے انسداد اسمگلنگ تارکین وطن ترمیمی بل منظور کر لیا، بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے منظوری کیلئے پیش کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے نام پر قتل بل پیش کیا کا بل پیش

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان