غیرت کے نام پر قتل پر سزائے موت دی جائے گی، سینیٹ میں بل پیش
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
غیر ت کے نام پر قتل کا مقدمہ ورثاء کی جانب سے قابل معافی نہیں ہوگا، ریاست کی طرف سے مقدمہ چلایا جائے گا، سزائے موت دی جائے گی۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش کردیا، تعزیرات پاکستان، فوجداری قوانین اور قتل عمد سے متعلق قانون میں ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
مجوزہ بل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے دفاع میں اکسانے، کنٹرول کھونے یا اخلاقی غصے کو قبول نہیں کیا جائے گا، جو قتل کی ہدایت کرے، مدد کرے، ابھارے یا منظوری دے اسے بھی عمر قید کی سزا ہوگی۔
سینیٹ میں پیش کیے گئے مجوزہ بل میں جرگوں کے ذریعے قتل کے لیے اکسانے کو بھی جرم قرار دیا گیا، جبکہ جان بوجھ کر جرم کو نہ روکنے، رپورٹ نہ کرنے، یا تفتیش میں نااہلی پر سرکاری ملازم کے لیے 5 سال تک قید اور جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بل بحث کےلیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔
مسلم فیملی قانون میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کردیا گیا، بل سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا، جبکہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے فیڈرل کمیشن برائے پاپولیشن اینڈ ری پروڈکٹو کا بل پیش کیا، سینیٹر زرقا سہروردی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا، جو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
ڈاکٹر افنان اللّٰہ کا ورچوئل اثاثہ جات کا بل پیش کیا گیا، جو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک اتھارٹی بن چکی ہے۔
سینیٹر سرمد علی کا اسلام آباد میٹرو بس سروس بل پیش کیا گیا، سینیٹ نے انسداد اسمگلنگ تارکین وطن ترمیمی بل منظور کر لیا، بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے منظوری کیلئے پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے نام پر قتل بل پیش کیا کا بل پیش
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز