Jasarat News:
2026-07-24@06:36:02 GMT

… گفتگو کی اجازت نہیں دوں گا؛ اسپیکر قومی اسمبلی

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے فلور پر افواج پاکستان اور ججوں کے کردار پر منفی یا متنازع گفتگو کی اجازت نہیں دوں گا صرف اسی گفتگو کی اجازت دی جائے گی جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہو، اگر کوئی شخص پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جائے گی، میں حکومت کا حصہ ہوں نہ اپوزیشن کا، بطور اسپیکر آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنا غیر جانبدار کردار ادا کروں گا، احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم احتجاج پرامن ہونا چاہیے، اس میں آگ لگانے جان و مال کے نقصان اور توڑ پھوڑ کی کوئی گنجائش نہیں، انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے باقاعدہ مشاورت کرتے ہیں وزیراعظم کی جانب سے انہیں اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے سے کبھی نہیں روکا گیا اپوزیشن سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج مضبوط اور زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔

بھولی بھالی صورت والے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ارشاد کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی میں فوج اور ججوں کے بارے میں صرف تعریفی بات کی جا سکتی ہے تنقید نہیں کی جا سکتی، کیا واقعی صورتحال ایسی ہی ہے پاکستان کے تمام ججوں کا کردار اتنا روشن اور اعلیٰ و ارفع ہے کہ ان کی صرف تعریفیں ہی تعریفیں کی جانی چاہییں کیا قومی اسمبلی کا فلور کسی مہاراجا کا دربار ہے جہاں صرف قصیدے پڑھے جا سکتے ہیں، پاکستان کے عوام بھی جانتے ہیں کہ آج کے بہت سے جج جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس عبدالقیوم سے بھی گئے گزرے ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عوام تو عوام خود ان کے آج کے ممدوح بھی انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیں گے، لوگوں کو اگر عدالتوں سے انصاف مل جائے تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے، نہ پرامن نہ پرتشدد، جب انصاف کے دروازے بند ہو جائیں اور کہیں بھی حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں بھی بولنے کی اجازت نہ ہو تو پھر بقول استاد قمر جلالوی

راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے

ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے

فوج ملک کا اہم ادارہ ہے لیکن اسے مضبوط اور اس کی کارکردگی بہترین بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں جو ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اس کی خوبیاں اور خامیوں کا جائزہ لیا جاتا رہے جن اداروں کا احتساب ہوتا رہتا ہے وہ درست سمت میں چلتے رہتے ہیں اور ان کی کارکردگی بہتر سے بہترین ہوتی چلی جاتی ہے لیکن جو ادارے احتساب سے ماورا ہو جائیں ان میں خرابیوں کا در آنا فطری ہے یہ کہنا کہ فوج کا احتساب کا اپنا نظام ہے مناسب نہیں ہے یہ بات تو ہر ادارہ کہہ سکتا ہے اور اس طرح احتساب سے بالاتر ہوسکتا ہے بحیثیت مجموعی فوج سے ہمارے ملک کے عوام و خواص سب محبت کرتے ہیں لیکن کیا فوج کے جنرلوں کا کردار بھی ایسا ہی ہے کہ ان کی صرف تعریفیں کی جائیں، کیا وہ غلطی کوتاہی نہیں کر سکتے یہاں کیپٹن راجا محمد سرور، میجر طفیل محمد، میجر راجا عزیز بھٹی، میجر محمد اکرم، پائلٹ آفیسر راشد منہاس، میجر شبیر شریف، سوار محمد حسین، لانس نائک محمد محفوظ، کیپٹن کرنل شیر خان، حوالدار لالک جان اور لاکھوں فوجی پاکستانی قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں وہیں جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰی خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، جنرل امیر عبداللہ خان نیازی اور ان جیسے کئی جنرل فوج کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہیں، ان جنرلوں نے اپنے اقتدار و اختیار کے لیے ملک کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے حتیٰ کہ آدھا ملک گنوا دیا، اب اسپیکر صاحب کیا چاہتے ہیں کیا اب بھی پاکستان میں طاقت ہی سب سے بڑا قانون ہونا چاہیے، آئین، قانون، دلیل، منطق، اصول، ضوابط سب کو ایک طرف رکھ دیا جائے، 9 مئی کے واقعات پر بے شمار لوگوں کے خلاف بے شمار مقدمات قائم کیے گئے، بہت اچھی بات ہے، مقدمے چلنے چاہییں تاکہ سچ سامنے آسکے لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ نو مئی کے واقعات کی فوٹیجز سامنے لائی جائیں تو یہ بات فوج کے خلاف کیسے تصور کی جا سکتی ہے اگر قومی اسمبلی کے فلور پر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فوج سمیت تمام ادارے آئین میں طے کردہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں، ہر ادارے کو اپنا کام کرنے دیا جائے، کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہ کرے تو یہ مطالبہ فوج کے خلاف بولنا کیسے ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی بہت بڑا ناسور ہے اسے ختم کیا جانا ضروری ہے لیکن اس کے خاتمے کے لیے قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے ذہن میں اپنی اپنی تجاویز ہو سکتی ہیں انہیں سنا جانا چاہیے اگر اپوزیشن کو بولنے ہی نہیں دیا جائے گا اور یہ طے کر دیا جائے گا کہ صرف ہمارا طے کردہ طریقہ کار ہی ٹھیک ہے تو بہت بڑی غلطیاں ہو سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا سانحہ بھی ہوسکتا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ممکن ہے طاقت کے ساتھ ساتھ دیگر آپشنز کا استعمال بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو، مختلف تجاویز پیش کرنے والے ارکان قومی اسمبلی کو پاکستان کے خلاف بات کرنے والا کیسے کہا جا سکتا ہے؟

اسپیکر نے اپنی گفتگو میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط اور زر مبادلہ ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایاز صادق صاحب آپ دولت مند شخص ہیں پھر آپ کی اور ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں آپ لوگوں نے خود غیر معمولی اضافے کیے ہیں اس لیے آپ کو معیشت بہتر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہوگی ورنہ پاکستان کے عوام تو غربت و افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں اور اس کے باعث خودکشیاں کر رہے ہیں، تاجر و صنعت کار سر پیٹ رہے ہیں چلیے آپ نہ ہماری مانیں، نہ عوام کی، نہ تاجروں کی، نہ صنعت کاروں کی خود اپنے وزیر خزانہ کی بات تو سن لیں، انہوں نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ٹیکس اور توانائی کی قیمت زیادہ ہے، ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں، وزیر خزانہ نے کچھ کمپنیوں کے پاکستان سے جانے کا ذکر تو کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ زیادہ ٹیکس اور بجلی اور گیس کے بھاری بلوں کی وجہ سے بے شمار صنعتیں بند ہو چکی ہیں یا ان کا کاروبار سمٹ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات کم ہو رہی ہیں اور لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔

جہاں تک زر مبادلہ ذخائر بڑھنے کا تعلق ہے تو وزیر خزانہ کو تفصیل سے بتانا چاہیے کہ خزانے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے کتنے ارب ڈالر رکھے گئے ہیں، کتنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھیجے ہیں اور کتنے ہماری اپنی معیشت کے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر بھارت اور بنگلا دیش کے مقابلے میں شرمناک حد تک کم ہیں۔ صرف عوام اور صنعت کار ہی یہ دہائی نہیں دے رہے کہ بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ہماری کمر توڑے ڈال رہی ہیں خود نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کی رپورٹ میں بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں رپورٹ کے مطابق ٹیکس، سر چارجز، ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ برداشت کے قابل نہیں رہیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات کم کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، ان کمپنیوں کے نقصانات سے گردشی قرضہ 397 ارب روپے بڑھ گیا ہے۔

 

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کے کہ قومی اسمبلی اجازت نہیں پاکستان کی پاکستان کے زر مبادلہ کی اجازت دیا جائے بجلی کی رہے ہیں ہیں اور کے خلاف اور اس کے لیے اور ان فوج کے

پڑھیں:

25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر

سٹی 42:  25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل  ہوگیا ۔

صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر  نے  میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں  ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران  صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا  کیک کاٹیں گے۔

25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن