Jasarat News:
2026-07-24@03:47:08 GMT

… گفتگو کی اجازت نہیں دوں گا؛ اسپیکر قومی اسمبلی

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے فلور پر افواج پاکستان اور ججوں کے کردار پر منفی یا متنازع گفتگو کی اجازت نہیں دوں گا صرف اسی گفتگو کی اجازت دی جائے گی جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہو، اگر کوئی شخص پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جائے گی، میں حکومت کا حصہ ہوں نہ اپوزیشن کا، بطور اسپیکر آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنا غیر جانبدار کردار ادا کروں گا، احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم احتجاج پرامن ہونا چاہیے، اس میں آگ لگانے جان و مال کے نقصان اور توڑ پھوڑ کی کوئی گنجائش نہیں، انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے باقاعدہ مشاورت کرتے ہیں وزیراعظم کی جانب سے انہیں اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے سے کبھی نہیں روکا گیا اپوزیشن سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج مضبوط اور زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔

بھولی بھالی صورت والے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ارشاد کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی میں فوج اور ججوں کے بارے میں صرف تعریفی بات کی جا سکتی ہے تنقید نہیں کی جا سکتی، کیا واقعی صورتحال ایسی ہی ہے پاکستان کے تمام ججوں کا کردار اتنا روشن اور اعلیٰ و ارفع ہے کہ ان کی صرف تعریفیں ہی تعریفیں کی جانی چاہییں کیا قومی اسمبلی کا فلور کسی مہاراجا کا دربار ہے جہاں صرف قصیدے پڑھے جا سکتے ہیں، پاکستان کے عوام بھی جانتے ہیں کہ آج کے بہت سے جج جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس عبدالقیوم سے بھی گئے گزرے ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عوام تو عوام خود ان کے آج کے ممدوح بھی انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیں گے، لوگوں کو اگر عدالتوں سے انصاف مل جائے تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے، نہ پرامن نہ پرتشدد، جب انصاف کے دروازے بند ہو جائیں اور کہیں بھی حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں بھی بولنے کی اجازت نہ ہو تو پھر بقول استاد قمر جلالوی

راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے

ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے

فوج ملک کا اہم ادارہ ہے لیکن اسے مضبوط اور اس کی کارکردگی بہترین بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں جو ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اس کی خوبیاں اور خامیوں کا جائزہ لیا جاتا رہے جن اداروں کا احتساب ہوتا رہتا ہے وہ درست سمت میں چلتے رہتے ہیں اور ان کی کارکردگی بہتر سے بہترین ہوتی چلی جاتی ہے لیکن جو ادارے احتساب سے ماورا ہو جائیں ان میں خرابیوں کا در آنا فطری ہے یہ کہنا کہ فوج کا احتساب کا اپنا نظام ہے مناسب نہیں ہے یہ بات تو ہر ادارہ کہہ سکتا ہے اور اس طرح احتساب سے بالاتر ہوسکتا ہے بحیثیت مجموعی فوج سے ہمارے ملک کے عوام و خواص سب محبت کرتے ہیں لیکن کیا فوج کے جنرلوں کا کردار بھی ایسا ہی ہے کہ ان کی صرف تعریفیں کی جائیں، کیا وہ غلطی کوتاہی نہیں کر سکتے یہاں کیپٹن راجا محمد سرور، میجر طفیل محمد، میجر راجا عزیز بھٹی، میجر محمد اکرم، پائلٹ آفیسر راشد منہاس، میجر شبیر شریف، سوار محمد حسین، لانس نائک محمد محفوظ، کیپٹن کرنل شیر خان، حوالدار لالک جان اور لاکھوں فوجی پاکستانی قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں وہیں جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰی خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، جنرل امیر عبداللہ خان نیازی اور ان جیسے کئی جنرل فوج کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہیں، ان جنرلوں نے اپنے اقتدار و اختیار کے لیے ملک کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے حتیٰ کہ آدھا ملک گنوا دیا، اب اسپیکر صاحب کیا چاہتے ہیں کیا اب بھی پاکستان میں طاقت ہی سب سے بڑا قانون ہونا چاہیے، آئین، قانون، دلیل، منطق، اصول، ضوابط سب کو ایک طرف رکھ دیا جائے، 9 مئی کے واقعات پر بے شمار لوگوں کے خلاف بے شمار مقدمات قائم کیے گئے، بہت اچھی بات ہے، مقدمے چلنے چاہییں تاکہ سچ سامنے آسکے لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ نو مئی کے واقعات کی فوٹیجز سامنے لائی جائیں تو یہ بات فوج کے خلاف کیسے تصور کی جا سکتی ہے اگر قومی اسمبلی کے فلور پر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فوج سمیت تمام ادارے آئین میں طے کردہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں، ہر ادارے کو اپنا کام کرنے دیا جائے، کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہ کرے تو یہ مطالبہ فوج کے خلاف بولنا کیسے ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی بہت بڑا ناسور ہے اسے ختم کیا جانا ضروری ہے لیکن اس کے خاتمے کے لیے قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے ذہن میں اپنی اپنی تجاویز ہو سکتی ہیں انہیں سنا جانا چاہیے اگر اپوزیشن کو بولنے ہی نہیں دیا جائے گا اور یہ طے کر دیا جائے گا کہ صرف ہمارا طے کردہ طریقہ کار ہی ٹھیک ہے تو بہت بڑی غلطیاں ہو سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا سانحہ بھی ہوسکتا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ممکن ہے طاقت کے ساتھ ساتھ دیگر آپشنز کا استعمال بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو، مختلف تجاویز پیش کرنے والے ارکان قومی اسمبلی کو پاکستان کے خلاف بات کرنے والا کیسے کہا جا سکتا ہے؟

اسپیکر نے اپنی گفتگو میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط اور زر مبادلہ ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایاز صادق صاحب آپ دولت مند شخص ہیں پھر آپ کی اور ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں آپ لوگوں نے خود غیر معمولی اضافے کیے ہیں اس لیے آپ کو معیشت بہتر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہوگی ورنہ پاکستان کے عوام تو غربت و افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں اور اس کے باعث خودکشیاں کر رہے ہیں، تاجر و صنعت کار سر پیٹ رہے ہیں چلیے آپ نہ ہماری مانیں، نہ عوام کی، نہ تاجروں کی، نہ صنعت کاروں کی خود اپنے وزیر خزانہ کی بات تو سن لیں، انہوں نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ٹیکس اور توانائی کی قیمت زیادہ ہے، ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں، وزیر خزانہ نے کچھ کمپنیوں کے پاکستان سے جانے کا ذکر تو کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ زیادہ ٹیکس اور بجلی اور گیس کے بھاری بلوں کی وجہ سے بے شمار صنعتیں بند ہو چکی ہیں یا ان کا کاروبار سمٹ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات کم ہو رہی ہیں اور لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔

جہاں تک زر مبادلہ ذخائر بڑھنے کا تعلق ہے تو وزیر خزانہ کو تفصیل سے بتانا چاہیے کہ خزانے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے کتنے ارب ڈالر رکھے گئے ہیں، کتنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھیجے ہیں اور کتنے ہماری اپنی معیشت کے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر بھارت اور بنگلا دیش کے مقابلے میں شرمناک حد تک کم ہیں۔ صرف عوام اور صنعت کار ہی یہ دہائی نہیں دے رہے کہ بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ہماری کمر توڑے ڈال رہی ہیں خود نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کی رپورٹ میں بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں رپورٹ کے مطابق ٹیکس، سر چارجز، ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ برداشت کے قابل نہیں رہیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات کم کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، ان کمپنیوں کے نقصانات سے گردشی قرضہ 397 ارب روپے بڑھ گیا ہے۔

 

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کے کہ قومی اسمبلی اجازت نہیں پاکستان کی پاکستان کے زر مبادلہ کی اجازت دیا جائے بجلی کی رہے ہیں ہیں اور کے خلاف اور اس کے لیے اور ان فوج کے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن