سینٹ: علامہ ناصر عباس کی اپوزیشن لیڈر تقرری پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار + نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی کے بعد سینٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر اتفاق ہوگیا۔ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کیلئے قانونی ضابطے پورے کئے جا رہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ چیمبر میں مشاورتی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ زیر غور آیا، اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک تھے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سینٹ میں علامہ ناصر عباس اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔ دریں اثناء سینٹ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کرلیا۔ ترمیم میں تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ 297 الف شامل کی گئی اور یہ بل جاود ، جادو ٹونا کی روک تھام سے متعلق ہے۔ بل کے مطابق جو شخص جادو ٹونا یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7سال تک قید ہو گی اور جرم کے مرتکب شخص کو 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ اس کے علاوہ سینٹ نے وفاقی نصاب، نصابی کتب سے متعلق بل بھی منظور کر لیا۔ یہ بل سینیٹر عینی مری نے پیش کیا۔ ایوان بالا نے پاکستان نرسنگ کونسل اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی بل، پاکستان نرسنگ کونسل ترمیمی بل، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی بل 2024، انسداد منشیات و تاریک وطن بل اور ذہنی صحت ترمیمی بل سمیت متعدد بلز متفقہ طور پر منظور کر لئے۔ سرمد علی نے پراونشل موٹر وھیکل ترمیمی بل 2025ء پیش کیا اس موقع پر حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت نہیں کی گئی، اس موقع پر چیرمین سینٹ نے بل پر شق وار رائے لینے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ ایوان بالا نے سول سرونٹس ایکٹ اور وفاقی نگرانی ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ سینیٹر قرات العین مری نے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024ء پیش کیا اس موقع پر حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت نہیں کی گئی۔ چیرمین سینٹ نے اراکین سے شق وار رائے لینے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ ایوان بالا میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے وفاقی وزیر مواصلات علیم خان سے ایوان میں معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ سوموار کو سینٹ اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ محمد زئی نے کہاکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں اپنے سوالات پیش کئے جو ایجنڈہ کا حصہ تھے، اجلاس کے دوران ایک وفاقی وزیر جس کو میری ذات میں زیادہ دلچسپی تھی اس نے کمیٹی اجلاس کے دوران گندی زبان استعمال کی وہ سب نے دیکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت بعض وفاقی وزرا بدمست ہاتھی بنے ہوئے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتار زہری نے کہاکہ جو بھی ہوا ہے وہ افسوسناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، ایوان بال میں اے ای پی کے سینیٹر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پی کے کے علاقے تیراہ میں جاری آپریشن سے متاثرہ افراد کی فوری داد رسی کا مطالبہ کیا ہے ۔ سوموار کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ میرا خیال تھا کہ پاکستان کے ہر کونے کے مسائل پر ہم سب بولتے ہیں، انہوں نے کہاکہ آج خیبر پی کے میں فوجی آپریشن شروع ہوچکا ہے اور عوام بے یارو مددگار ہیں اس علاقے کے عوام کو آپریشن کے نام پر باہر نکالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پی کے کی کوئی بھی بات نہیں مانی جا رہی ہے وہ مستعفی ہوجائیں ایوان بالا میں کراچی بلڈنگ آتشزدگی کے واقعے پر ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ سوموار کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر خالدہ عطیب نے کہاکہ اس اجلاس میں کراچی کے سانحے پر بات ہونی چاہیے تھی اس واقعے میں 22سے زیادہ افراد کی ہلاکت جبکہ 70سے زیادہ لاپتہ ہیں یہ کس کی ذمہ داری ہے جس بلڈنگ اتھارٹی نے اس کو بنانے کی اجازت دی تھی اس کی ذمہ داری کس پر تھی صرف ایوان صدر میں اپنی کارکردگی پیش نہیں کرنی چاہیے تھی انہوں نے کہاکہ کراچی میں سانحات کا ایک تسلسل ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ بدعنوانی اور کرپشن کے نتائج ہوتے ہیں۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہاکہ کراچی گل پلازہ میں جو سانحہ رونما ہوا وہ انتہائی دلخراش ہے اس میں معصوم لوگوں کی قیمتی جانیں چلی اور 1200کے قریب دکانیں جل کر خاکستر ہوئی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی ہورہا ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت ہے اس پر مقدمات درج ہونے چاہیے اور ذمہ داروں کو سخت ترین سزائیں ملنی چاہیے سینیٹر نور الحق قادری نے کہاکہ تیراہ میں اپریشن شروع ہو چکا ہے انہوں نے کہاکہ کراچی میں جو سانحہ ہوا ہے اس پر افسوس ہے انہوں نے کہاکہ تیراہ کے علاقے میں آگ لگائی جا رہی ہے۔ ایوان بالا میں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر پلوشہ محمد زئی سے معافی مانگ لی ۔سوموار کو سینٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں وفاقی وزیر علیم خان اور سینیٹر پلوشہ محمد زئی کے مابین جو تلخ کلامی ہوئی ہے وہ افسوسناک ہے ایسا واقعہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ اس ایوان کے تمام اراکین قابل احترام ہیں میں اپنی بہن سے اجتماعی طور پر معافی مانگتا ہوں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا کی حکومت کے دوغلے کردار کی مذمت کی ہے انہوں نے کہاکہ ایک جانب صوبائی حکومت دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ملٹری آپریشن کی بھی مخالفت کرتی ہے۔ مشعال یوسفزئی نے خیبر پی کے میں ملٹری آپریشن کی مخالفت کی ہے، انہوں نے کہاکہ ایک جانب صوبے کے عوام دہشت گردی سے متاثر ہیں جبکہ دوسری جانب ملٹری آپریشن میں مارے جا رہے ہیں۔ سوموار کو سینٹ اجلاس کے دوران سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہاکہ آج پورا پاکستان تکلیف میں ہے انہوں نے کہاکہ کراچی کے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتی ہوں انہوں نے کہاکہ ااس وقت خیبر پی کے جل رہا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ سے صوبے میں ڈرون حملے ہورہے ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں پر پوائنٹ سکورنگ ہورہی ہے۔ محسن عزیز نے پیش کی۔ سوموار کو سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے تحریک پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ورلڈ بنک اور پاکستان سمیت بیرون ممالک کے معیشت دان پاکستان کی معیشت کو خطرناک قرار دے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستانی قوم غریب سے غریب تر ہورہی ہے اور ملک قرضوں کی سہارے زندہ ہے انہوں نے کہاکہ پوری دنیا ترقی کی جانب جا رہی ہے مگر پاکستان تنزلی کی جانب جا رہا ہے اس وقت عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کا فائدہ پاکستان کے عوام کو نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق جولائی 2025میں بیرونی سرمایہ کاری 2ارب48کروڑ ڈالر ہے جو کہ گذشتہ سال سے 142ملین ڈالر زیادہ ہے اسی طرح جو بین الاقوامی کمپنیاں ہیں اس وقت نئی کمپنیاں پاکستان میں آئی ہیں اور کچھ کمپنیاں مذید آرہی ہیں۔ دوسری طرف سینٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے شرکت کی۔ کمیٹی نے سینٹ کے 357 ویں اجلاس کے دوران نمٹائے جانے والے قانون سازی کے امور پر بین الاقوامی امور کی موجود صورتحال پر بھی بحث کی جائے گی۔ بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سینٹ کا موجودہ اجلاس رواں ماہ کی 27 تاریخ تک جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: متفقہ طور پر منظور کر ہے انہوں نے کہاکہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ا نے کہاکہ کراچی ایوان بالا میں اجلاس کے دوران اعظم نذیر تارڑ اپوزیشن لیڈر منظور کر لیا وفاقی وزیر خیبر پی کے اجلاس میں سوموار کو کی جانب کہ سینٹ رہے ہیں پیش کی رہی ہے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند