چاہ بہار بندرگاہ کی بندش: افغانستان کی معاشی شہ رگ خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اگر ایران کی چاہ بہار بندرگاہ واقعی محدود یا بند ہو جاتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان افغانستان کو اٹھانا پڑے گا، کیونکہ یہ بندرگاہ افغان معیشت کے لیے محض ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ عالمی منڈی سے جڑنے کی بنیادی شہ رگ بن چکی ہے، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کے پاکستان کے ساتھ حالات کشیدہ ہیں اور افغان تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہیں جو سب سے زیادہ آسان اور قابلِ رسائی رہی ہیں وہ بند ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش کے بعد افغانستان کا زیادہ انحصار چاہ بہار پر ہو گیا تھا لیکن اب اس کا مستقبل بھی خطرے میں نظر آتا ہے۔ مکمل بندش کی صورت میں افغان تاجروں کو دوبارہ طویل، مہنگے اور غیر یقینی راستے اختیار کرنا پڑیں گے، جس سے برآمدات مہنگی اور غیر مسابقتی ہو جائیں گی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: چاہ بہار بندرگاہ کی بندش سے بھارت اور افغانستان کو کتنا نقصان ہوسکتا ہے؟
افغانستان بڑی حد تک ایندھن، ادویات اور خوراک جیسی بنیادی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ چاہ بہار کی کمزوری سے سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کا براہِ راست بوجھ عام افغان شہری پر پڑے گا۔ اسی طرح خشک میوہ جات، قالین اور معدنیات جیسی برآمدات میں کمی سے مقامی صنعتیں کمزور ہوں گی اور روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے۔
چاہ بہار کے ذریعے تجارت کا حجم اور افغانستان کا انحصارمالی سال 24-2023 میں چاہ بہار بندرگاہ سے 2.
بھارت اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 2023 میں قریباً 779 ملین ڈالر رہی، جس کا ایک اہم حصہ اسی راہداری سے وابستہ تھا۔
افغانستان کے لیے چاہ بہار کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ 2025 میں افغانستان نے چاہ بہار کے ذریعے قریباً 2.6 ارب ڈالر کی تجارت کی، جو اس کی مجموعی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ بنتی ہے۔ یہ راستہ افغانستان کے لیے پاکستان پر انحصار کم کرنے کا ایک اہم متبادل بن چکا ہے۔
چاہ بہار کی بندش سے افغان انڈیا نیکسس ٹوٹ جائے گا؟امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ چاہ بہار میں بھارت اسٹریٹجک اور اقتصادی دونوں لحاظ سے ناکام ہوگیا ہے، وہ بری نیّت سے چاہ بہار میں داخل ہوا تھا اور اس کا اصل مقصد پاک چین اقتصادی راہداری کی ناکامی تھا اور بھارت ایران کے راستے افغانستان میں داخل ہونا چاہتا تھا جہاں اس نے ساتھ میں جاسوسی نیٹ ورکس بھی قائم کر رکھے تھے۔ ان تمام مقاصد میں بھارت برے طریقے سے ناکام ہوا ہے۔
افغانستان کے لیے چاہ بہار کتنا اہم ہے؟افغان وزارتِ تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے چاہ بہار کی عملی اہمیت پر نومبر میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’چاہ بہار کی سہولیات نے تجارتی ترسیل میں تاخیر کو کم کیا ہے اور تاجروں کو یہ اعتماد دیا ہے کہ جب سرحدیں بند ہو جائیں تب بھی ان کی شپمنٹس نہیں رکیں گی‘۔
ان کے مطابق اگر یہ راستہ کمزور پڑتا ہے تو افغان تجارت ایک بار پھر سرحدی سیاست اور بندشوں کی یرغمال بن سکتی ہے۔
عالمی ماہرین کی وارننگایران اور افغانستان کی علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والی بھارتی تجزیہ کار کریتی ماتھر شاہ نے کہا ہے کہ ایران پر نئی پابندیوں کا نفاذ چاہ بہار منصوبے کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ پابندیاں نہ صرف ممالک اور کمپنیوں کو تہران کے ساتھ کاروبار سے روکتی ہیں بلکہ مالیاتی اداروں کے خوف کے باعث بندرگاہ کے لیے فنانسنگ میں بھی شدید کمی آ سکتی ہے۔
ان کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ عالمی بینکنگ نظام کا دباؤ کسی بھی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کو عملی طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔
چاہ بہار: افغانستان کے لیے متبادل زندگی کی لکیرچاہ بہار بندرگاہ ایران کے جنوب مشرق میں بحرِ عمان کے ساحل پر واقع ہے، جسے 2016 میں ایران، بھارت اور افغانستان کے سہ فریقی معاہدے کے تحت فعال کیا گیا۔
اس کا بنیادی مقصد افغانستان کو ایک متبادل سمندری راستہ فراہم کرنا تھا تاکہ وہ جنوبی ایشیا، خلیج، یورپ اور افریقہ تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکے۔ چونکہ افغانستان ایک زمین سے گھرا ہوا لینڈ لاک ملک ہے اور تاریخی طور پر پاکستان کے راستے تجارت کرتا آیا ہے، اس لیے چاہ بہار نے اسے پہلی بار نسبتاً آزاد اور محفوظ تجارتی راستہ فراہم کیا۔
ماہرین کے مطابق اسی بندرگاہ کے باعث افغان برآمدات کو عالمی منڈیوں تک کم وقت اور کم لاگت میں رسائی ملی، جس سے زرِ مبادلہ کے امکانات بڑھے اور افغان تجارت میں نئی جان آئی۔
سیاسی اور اقتصادی انحصار کی واپسی کا خدشہچاہ بہار کی کمزوری افغانستان کو دوبارہ روایتی راستوں، خصوصاً پاکستان کے ذریعے تجارت پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس سے سرحدی بندشوں، سیاسی کشیدگی اور اضافی ٹرانزٹ اخراجات جیسے مسائل دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں، جو افغان معیشت کو مستقل غیر یقینی کا شکار بنا دیں گے۔
چاہ بہار بندرگاہ کی بندش افغانستان کے لیے صرف ایک بندرگاہ کے کھو جانے کا مسئلہ نہیں بلکہ اپنی اسٹریٹجک معاشی شہ رگ کے متاثر ہونے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی پابندیوں کا خوف، بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے جڑے منصوبے ترک کردیے
2016 کے سہ فریقی معاہدے کے بعد افغانستان نے اپنی طویل المدتی تجارتی منصوبہ بندی اسی راہداری سے وابستہ کردی تھی۔ اگر یہ راستہ کمزور پڑتا ہے تو افغانستان کو سپلائی چین میں خلل، برآمدی منڈیوں تک محدود رسائی، بڑھتی ہوئی لاگت اور سیاسی انحصار جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ چاہ بہار کو فعال رکھنا آج صرف ایران اور بھارت ہی نہیں بلکہ افغانستان کی معاشی بقا کے لیے بھی ناگزیر بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغان معیشت ایران بھارت پاک چین راہداری تجارتی راہداری چاہ بہار بندرگاہ سی پیک وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان معیشت ایران بھارت پاک چین راہداری تجارتی راہداری چاہ بہار بندرگاہ سی پیک وی نیوز افغانستان کے لیے چاہ بہار بندرگاہ اور افغانستان افغانستان کو چاہ بہار کی پاکستان کے اور افغان ہیں بلکہ کی بندش
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔