Express News:
2026-07-24@05:37:34 GMT

پاکستان کو بائی پاس کرنا بھارت اور طالبان کیلیے ناممکن

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

اسلام آباد:

گزشتہ ہفتے طالبان حکومت کے تحت مقرر ہونے والے پہلے افغان ناظم الامور نور احمد نور نے نئی دہلی پہنچتے ہی بھارت کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وزارتِ خارجہ نے ایک تصویر جاری کی جس میں نور احمد نور بھارت کے جوائنٹ سیکریٹری برائے پاکستان، افغانستان  و ایران کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

تصویر میں پیش کردہ منظر ایک خاموش لیکن اہم تبدیلی کی نشاندہی  کر رہے ہیں۔  وہ تبدیلی بھارت اور افغان طالبان حکومت کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی ہے۔ 

ایک طرف پاک  بھارت تعلقات منجمد ہیں اور دوسری طرف طالبان پاکستان تعلقات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ ایسے میں نئی دہلی اور کابل دونوں اپنے اپنے تزویراتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک  ’’ ٹیکٹیکل ری سیٹ ‘‘ کو آزمانے کی طرف جاتے دکھائی دیے۔  

تاہم افغانستان بھارت کی اس قربت کو ایک سخت جیو پولیٹیکل رکاوٹ کا سامنا ہے اور وہ رکاوٹ جغرافیہ ہے۔ عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے افغانستان کا تمام تر انحصار پاکستان پر ہے۔

اس دوران کابل اور نئی دہلی نے متبادل راستے تلاش کیے۔ ان متبادل راستوں میں سب سے پرجوش منصوبہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تھی۔ افغانستان اور بھارت کو چا بہار منصوبے سے ثمرات ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ 

تاہم اب وہ امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایران پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے خوف سے بھارت خاموشی سے چاہ بہار میں فعال شمولیت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ 

پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ جوہر سلیم نے اس حالیہ پیش رفت کو بھارت کی خارجہ پالیسی کے ایک گہرے تضاد کی علامت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا چا بہار کو  سیاسی طور پر ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔  اب ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ تزویراتی خودمختاری  کے نام پر بھارت کی تزویراتی منافقت کا ایک اور مظہر ہے۔

جوہر سلیم نے کہا یہ تصور ہی شروع سے ناقص تھا۔ پاکستان کو بائی پاس کرنے کا یہ خیال ہمیشہ عملی سے زیادہ سیاسی رہا ہے۔ جغرافیہ کو خواہشات سے نہیں بدلا جا سکتا۔ چاہ بہار کو صرف ایک متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا لیکن یہ کبھی بھی گوادر کی لاجسٹک سہولیات کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے بھی اسی تشخیص کی تائید کی اور رابطوں کی معاشیات پر خاص زور دیا۔ انہوں نے کہا چا بہار کی تکمیل پر بھارت کو معلوم ہوا کہ یہ راستہ اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیں اور کراچی بندرگاہ یا واہگہ کے زمینی راستے کے مقابلے میں 40 سے 45 فیصد زیادہ مہنگا ہے۔

بھارت چا بہار میں اپنی شمولیت کم کر دیتا ہے تو کابل کے پہلے سے محدود تجارتی آپشنز مزید سکڑ جائیں گے جو اسے دوبارہ پاکستان کی بندرگاہوں، سڑکوں اور ٹرانزٹ انفراسٹرکچر پر انحصار کی طرف دھکیل دیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تمام تر علامتی اہمیت کے باوجود بھارت ۔ طالبان روابط کے گرد موجود جغرافیہ  و معاشیات کی تلخ حقیقتیں اور بیرونی دباؤ  ہی حتمی نتائج کی تشکیل کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت کی رہے ہیں چا بہار

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی