ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو بڑی کامیابی، مراکش کے بادشاہ نے بانی رکنیت قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
مراکش کے بادشاہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے جانے والے غزہ امن بورڈ کی بانی رکنیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ مراکش کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کر دی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے جاری بیان کے مطابق مراکش کے بادشاہ نے اس بورڈ میں بطور بانی رکن شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس بورڈ کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
مزید پڑھیںغزہ کے امن عمل میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو سکتا ہے، خواجہ آصف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے دی
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں محدود تعداد میں منتخب بین الاقوامی رہنما شامل ہوں گے، جو خطے میں طویل المدتی امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔
مراکش کی وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ مراکش بورڈ کے آئینی چارٹر کی توثیق کرے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔