ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو بڑی کامیابی، مراکش کے بادشاہ نے بانی رکنیت قبول کرلی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز

مراکش کے بادشاہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے جانے والے غزہ امن بورڈ کی بانی رکنیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ مراکش کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کر دی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے جاری بیان کے مطابق مراکش کے بادشاہ نے اس بورڈ میں بطور بانی رکن شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس بورڈ کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں محدود تعداد میں منتخب بین الاقوامی رہنما شامل ہوں گے، جو خطے میں طویل المدتی امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔

مراکش کی وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ مراکش بورڈ کے آئینی چارٹر کی توثیق کرے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگرین لینڈ تنازع پر ٹیرف کی دھمکی: یورپی ممالک نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا اگلی خبرڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل؛ سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل؛ سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا گرین لینڈ تنازع پر ٹیرف کی دھمکی: یورپی ممالک نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن چیلنج سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، لاپتہ افراد کی فہرست 81 تک پہنچ گئی پارلیمنٹ ہا ئو س میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا ساتھ دینے کا عندیہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مراکش کے بادشاہ نے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار