سپریم کورٹ: بیوی کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کی درخواست پر سماعت، فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ میں بیوی کے قتل کے مقدمے میں مجرم اختر عباس کی بریت کی درخواست کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
کیس کی سماعت 3 رکنی بینچ نے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں کی۔ سماعت کے دوران مجرم کے وکیل پرنس ریحان اور جسٹس ہاشم کاکڑ کے درمیان مکالمے بھی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کی خواتین کے لباس پر دوبارہ سختی، مانتو پہننے والی خواتین کو ہراساں کیا جانے لگا
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا، ملزم نے اپنی بیوی کو مارا ہو گا، آپ کے پاس سارے ایسے ہی کیسز آتے ہیں، آپ کے خلاف تو خواتین کو احتجاج کرنا چاہیے۔
ملزم اختر عباس نے بیان دیا کہ میری بیوی نے تنسیخ نکاح کا کیس کر رکھا ہے اور وہ میرے ساتھ نہیں رہتی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ وقوعہ کب ہوا؟ وکیل نے بتایا کہ یہ واقعہ 2015 میں رات ایک بجے پیش آیا۔
وکیل نے مزید کہا، میڈیکل رپورٹ میں ایک زخم سینے پر آیا ہے۔ میری بیوی تنسیخ نکاح کے بعد اپنے والدین کے گھر رہتی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میری بیوی کو اس کے سوتیلے والد نے مارا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان پر تشدد، خواتین سمیت 11 افراد کو حراست میں لیا گیا، پی ٹی آئی
پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے مطابق گواہان بیک سائیڈ پر تھے، وہ کیسے پہنچان سکتے ہیں؟ جس پر جواب ملا کہ شادی 8 سال رہی، اتنے عرصے میں پہچان ہوجاتی ہے، جسامت سے قد سے بھی۔
یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت دی تھی، جبکہ ہائی کورٹ نے اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحفظ خواتین سپریم کورٹ عدلیہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواتین سپریم کورٹ عدلیہ جسٹس ہاشم کاکڑ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔