سپریم کورٹ: بیوی کے قتل میں نامزد ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں ملزم ابرار کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹرائل کورٹ نے ملزم ابرار کو اپنی بیوی زینت بی بی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جبکہ مقتولہ کے والد پر فائرنگ کرنے کے الزام میں 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: بیوی کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کی درخواست پر سماعت، فیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلحہ کی برآمدگی اور فارنزک شواہد ناقابلِ بھروسہ ہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی خول 37 دن کی تاخیر سے فارنزک لیبارٹری بھجوائے گئے، جبکہ اسلحہ کی برآمدگی کے وقت کوئی آزاد گواہ بھی موجود نہیں تھا۔
عدالت کے مطابق ملزم نے 17 جنوری 2020 کو اپنے سسرال میں فائرنگ کر کے بیوی کو قتل کیا اور اسی دوران مقتولہ کے والد کو بھی زخمی کیا تھا۔
اس مقدمے کی سماعت جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے قتل
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔