کراچی: بچوں سے زیادتی کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ، مختلف عدالتوں کے متضاد احکامات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی میں بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں گرفتار ملزم عمران کو پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ شاہد علی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف 2024 کا مقدمہ زیرِ تفتیش ہے جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے کہا کہ مذکورہ مقدمہ پہلے نامعلوم ملزم کے خلاف درج تھا اور بعد میں اسے اے کلاس قرار دے دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: درجنوں بچوں سے زیادتی کے مرتکب شخص سے متعلق نئے انکشافات سامنے آگئے
عدالت نے اے کلاس رپورٹ طلب کی تو تفتیشی افسر نے مہلت مانگ لی، جس پر عدالت نے ریمانڈ منظور کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
دوسری جانب، جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ عبدالسلیم کلہوڑو کی عدالت میں بھی ملزم عمران کو پیش کیا گیا، جہاں دو مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی گئی۔ تاہم عدالت نے 2022 کے بچوں سے زیادتی کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔
سماعت کے دوران انسپکٹر شعیب نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمے کا تفتیشی افسر کہاں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈیفنس پولیس ملزم کو ایک بار عدالت میں پیش کرکے بعد میں مقدمہ بھول جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جیکب آباد: خاتون کا پولیس اہلکاروں پر پوتی سے زیادتی کا سنگین الزام، وزیر داخلہ سندھ کا نوٹس
جوڈیشل مجسٹریٹ عبدالسلیم کلہوڑو نے کہا کہ نہ تو 2022 کے مقدمے کی کوئی رپورٹ موجود ہے، نہ پولیس فائل مکمل ہے، اور ایسی صورتحال میں جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے کا تفتیشی افسر یا سینئر تفتیشی افسر پیش ہوگا تو ہی ریمانڈ پر غور کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچوں سے زیادتی عدالت کراچی پولیس ملزم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچوں سے زیادتی عدالت کراچی پولیس بچوں سے زیادتی کے تفتیشی افسر عدالت نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔